جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 90 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 90

90 موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر کو کھڑا کیا۔آپ نے تمام غمزدہ صحابہ کرام کو ایک جگہ جمع کیا۔منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا۔اور صحابہ کرام کو عموماً اور حضرت عمرؓ کو خصوصاً مخاطب کر کے فرمایا:۔أَيُّهَا الرَّجُلُ إِرْبَعُ عَلَى نَفْسِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْمَاتَ اَلَمْ تَسْمَعُ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ وَقَالَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قِبْلِكَ الْخُلْدَ افَانُ مِتَّ فَهُم الْخَلِدُونَ ثُمَّ أَتَى الْمِنْبَرَ فَصَعِدَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَ أَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ايُّهَا النَّاسُ۔۔ثُمَّ تَلاَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ 66 در منثور جلد ۴ ص (۳۱۸ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ۔ترجمہ :۔اے شخص! اپنے آپ پر قابورکھ۔یقینا رسول اللہ وہ وفات پاگئے ہیں۔کیا تم نے قرآن کریم کی یہ آیت نہیں سنی - إِنَّكَ مَيِّتٌ وَ إِنَّهُمْ مَيِّتُونَ - ) کہ تو بھی مرنے والا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں ) اور اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی۔کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تو تو وفات پائے اور وہ ہمیشہ زندہ رہیں۔اس کے بعد حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول الخ۔کہ محمد (ﷺ) صرف اللہ کے رسول ہیں۔ان سے پہلے سب رسول گزر چکے ہیں۔اگر آپ وفات پا جائیں یا قتل ہوں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔“ بخاری شریف میں اس واقع کا ذکر یوں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا :۔أَمَّا بَعْدُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدُمَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمُ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَيَى لَا يَمُوتُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَىٰ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔(بخارى كتاب المغازی باب مرضى النبي) تم میں سے جو محمد ﷺ کی عبادت کرتے ہیں تو وہ سن لیں کہ محمد ﷺے وفات پاگئے ہیں اور جو تم میں سے اللہ کی عبادت کرتے تھے تو اللہ زندہ ہے اور وہ نہیں مرتا۔پھر آپ نے فرمایا۔کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں ہیں محمد مگر ایک رسول ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔“ بخاری میں آتا ہے کہ یہ آیت جب حضرت عمر اور صحابہ نے سنی تو انہیں یوں محسوس ہوا کہ یہ آج نازل ہوئی ہے۔اور انہیں یقین ہو گیا کہ واقعی آنحضرت ﷺ ایک بشر تھے۔ایک رسول تھے اور بشری تقاضے کے ماتحت آج تک جتنے رسول آئے وہ جب تمام وفات پاگئے تو آنحضرت ﷺ کیوں فوت نہیں ہو سکے۔حضرت ابوبکر کا اس آیت پر استدلال کرنا صاف دلالت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک تمام انبیاء گزشتہ بشمول حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔اگر واقعہ یہ ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام باوجود محض رسول