جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 561
561 کی زیر ہدایت آپ کی تعلیم کا ایک نیا دور شروع ہوا۔اس میں ضلع ہزارہ سے ایک عالم دین مولوی سکندر علی صاحب منگوائے گئے اور ان سے فقہ اور اصول فقہ پڑھی۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب سے تفسیر پڑھی۔اس کے ساتھ ہی حضرت فضل عمر کے صاحبزادگان اور دوسرے واقفین کو مختلف مضامین پڑھاتے رہے۔اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے دہلی، سہارنپور، اور لاہور میں مختلف ماہرین سے فقہ اور اصول فقہ کی تکمیل کی۔اس کے ساتھ ہی فلسفہ میں صدر اور منطق میں بحر العلوم کی تدریس جاری رکھی۔مارچ ۱۹۴۷ء میں قادیان واپس آئے۔تقسیم کے بعد جب عارضی مرکز لاہور میں بنا تو کچھ دیر ناظر ضیافت رہے۔مفتی سلسلہ کے طور پر تقرر جماعت احمدیہ کے مفتی سلسلہ کے عہدے پر حضرت مولانا محمد سرور شاہ صاحب فائز تھے۳/ جون ۱۹۴۷ء کو ان کی وفات ہوئی۔ان کے بعد حضرت امام جماعت احمدیہ (الثانی) کے حکم کے تحت آپ مفتی سلسلہ مقرر ہوئے۔یہ تقرری آپ کی وفات کے دن تک قائم رہی۔یکم مئی ۱۹۵۰ء میں آپ کو جامعتہ المبشرین کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔بعد میں پروفیسر جامعہ کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔جنوری ۱۹۵۸ء میں آپ کا تبادلہ ادارۃ المصنفین میں ہوا۔اور اکتوبر ۱۹۵۸ء میں بطور پروفیسر جامعہ احمدیہ آپ کی تقرری عمل میں آئی۔حضرت میر داؤ د احمد صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ کی وفات ۱۹۷۳ء میں ہوئی۔اس کے بعد آپ کو پہلے قائمقام اور پھر مستقل پرنسپل جامعہ احمدیہ مقرر کیا گیا۔اس وقیع عہدے پر آپ نے دس سال تک خدمات سرانجام دیں۔آپ نے مورخہ ۲۵ را کتوبر ۱۹۸۹ء کوکینیڈا میں وفات پائی۔حضرت ملک صاحب جماعت احمدیہ میں علم و دانش کا ایک باب تھے۔ان کے شاگردوں کی بڑی وسیع تعداد جماعت احمدیہ کے مخلص مربیان کی صف میں شامل ہو کر خدمات دین بجالا رہی ہے۔حضرت ملک صاحب نہایت بے نفس خاموش طبع ، سادہ مزاج درویش صفت بزرگ تھے۔نہایت متقی دیندار اور اپنے شاگردوں میں بے حد مقبول تھے۔جماعت احمدیہ کے علم کلام پر بہت گہری نظر تھی۔دینی امور پر ان کی رائے اس درجہ اہم اور حرف آخر سمجھی جاتی تھی کہ ۱۹۴۷ء سے لے کر وفات تک آپ مفتی سلسلہ کے انتہائی وقیع عہدے پر فائز رہے۔اس دوران آپ نے نہایت محنت عرق ریزی اور گہرے مطالعے سے سینکڑوں فتاویٰ حضرت امام جماعت احمدیہ کی منظوری سے جاری کئے اور پیچیدہ اور اہم دینی مسائل کے بارے میں اپنی اہم آراء کا اظہار کیا۔حضرت ملک صاحب کی یہ ایک ایسی بے نظیر اور تاریخی خدمت ہے جس کا اعتراف ہمیشہ کیا