جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 557
557 چنانچہ اس کے بعد اپنی آخری بیماری تک آپ نے مسلسل سلسلہ عالیہ احمدیہ کی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔آپ صدر انجمن احد یہ میں ناظر دعوت وتبلیغ، ناظر تعلیم وتربیت ، ناظر تجارت، ناظر تالیف وتصنیف، ناظر امور خارجه اور ایڈیشنل ناظر اعلیٰ کے عہدوں پر فائز رہے اور اس طرح ایک لمبے عرصے تک حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک معتمد رفیق کار کی حیثیت سے مختلف محکموں میں آپ کو نہایت قابل قدر کام کرنے کی توفیق ملی۔اس اثناء میں جماعت کے خلاف کئی خطرناک فتنے بپا ہوئے اور جماعت پر بہت سے نازک دور آئے لیکن ہر مرحلہ پر حضرت شاہ صاحب نے نہاہت کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض کو ادا کیا۔اور حضور رضی اللہ عنہ کی خوشنودی حاصل کی۔۶۲۵ ،۲۶ء میں آپ کو بلا د عربیہ میں بطور مبلغ بھی کام کرنے کا موقعہ ملا۔از حد مصروفیت کے باوجود علمی میدان میں بھی آپ نے جماعت کی بہت سی خدمات سرانجام دیں۔چنانچہ آپ کی چوبیس کے قریب تصنیفات شائع ہو چکی ہیں۔جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کی تقاریر بھی ایک خاص رنگ رکھتی تھیں اور بہت پسند کی جاتی تھیں۔۱۹۲۶ء میں صحیح بخاری کا ترجمہ اور شرح لکھنے کا کام آپ کے سپر د کیا گیا۔آپ بڑے شوق اور محنت سے کرتے رہے چنانچہ اس وقت تک شرح کے آٹھ جزو شائع ہو چکے تھے۔مسلمانان کشمیر جدو جہد آزادی میں بھی آپ کو حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیر ہدایت گراں قدر خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک کے وقت آپ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں چنانچہ اکتو بر ۱۹۴۷ء سے جنوری ۱۹۴۸ء تک آپ قید رہے قیام پاکستان کے وقت آپ کو سیاسی لحاظ سے بھی مسلمانوں کی خدمت کرنے کا بہت موقع ملا۔جب پاکستان میں مرکز ربوہ قائم ہوا تو یہاں کے ابتدائی دور میں بھی جب کہ بہت سی مشکلات در پیش تھیں۔ایک عرصہ تک آپ کو بطور امیر مقامی اور بطور ناظر کام کرنے کا موقع ملا یکم جون ۵۴ء کو آپ صدر انجمن احمدیہ کی ملازمت سے ریٹائر ہوئے لیکن اس کے بعد پھر آپ کو ناظر امور خارجہ متعین کر دیا گیا۔چنانچہ اس حیثیت سے آپ ۶۲ ء تک جب کہ فالج کی وجہ سے آپ شدید بیمار ہو گئے کام کرتے رہے گویا ۱۹۰۸ء میں آپ نے خدمت دین کا جو عہد کیا تھا اسے آخر تک نہایت عمدگی کے ساتھ نبھانے کی آپ کو توفیق ملی۔ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء حضرت شاہ صاحب رؤیاء کشوف اور مستجاب الداعوات بزرگ تھے۔کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے رؤیا کشوف کے ذریعے آپ کی رہنمائی اور اپنی بشارتوں سے آپ کو نوازا۔نماز تہجد با قاعدہ ادا کرتے تھے قرآن کریم سے غایت درجہ محبت تھی اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گہرا مطالعہ تھا۔عربی اور اردو کے بلند پایہ ادیب تھے۔غرض بہت سی خوبیوں کے حامل تھے ایک لمبے عرصہ تک تنظیمی تربیتی تبلیغی اور علمی میدان میں سلسلہ کی گراں بہا خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔آپ نے مورخہ ۶ ارمئی ۱۹۶۷ء کو وفات پائی۔