جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 554 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 554

554 آپ کی عربی دانی اور علم لدنی کا سب سے لوہا منوالیا تھا۔آپ کے آقاسید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جن کے فیض صحبت سے آپ نے بہت کچھ پایا اور آپ کے علم و عرفان کو جلاء نصیب ہوئی ۸/ نومبر ۱۹۴۰ء کو خطبہ جمعہ میں آپ کے علم و فضل اور تبحر علمی کا ذکر کرتے ہوئے آپ کو حسب ذیل سند قبولیت عطا فرمائی:۔میں سمجھتا ہوں کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کا اللہ تعالیٰ نے جو بحر کھولا وہ بھی زیادہ تر اسی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے ان کی علمی حالت ایسی نہیں تھی مگر بعد میں جیسے یک دم کسی کو پستی سے اٹھا کر بلندی تک پہنچا دیا جاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان کو قبولیت عطا فرمائی اور ان کے علم میں ایسی وسعت پیدا کر دی کہ صوفی مزاج لوگوں کے لئے ان کی تقریر بہت ہی دلچسپ دلوں پر اثر کرنے والی اور شبہات و وساوس کو دور کرنے والی ہوتی ہے گزشتہ دنوں میں شملہ گیا تو ایک دوست نے بتایا کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی یہاں آئے اور انہوں نے ایک جلسہ میں تقریر کی جو رات کے گیارہ ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوئی تقریر کے بعد ایک ہندو ان کی منتیں کر کے انہیں اپنے گھر لے گیا اور کہنے لگا کہ آپ ہمارے گھر چلیں آپ کی وجہ سے ہمارے گھر میں برکت نازل ہوگی۔“ 66 (خطبه جمعه فرموده ۱۸ نومبر ۱۹۴۰ء) آپ کی بزرگی زہد و اتقاء اور خدمات جلیلہ کے اعتراف کے طور پر سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فروری ۱۹۵۷ء میں آپ کو صدر انجمن احمدیہ کا مستقل ممر مقررفرمایا چنانچہ اس وقت سے اپنی وفات تک آپ صدرانجمن احمدیہ کے نمبر چلے آ رہے تھے علاوہ ازیں آپ افتاء کمیٹی کے بھی رکن تھے۔آپ نے مورخہ ۱۵ر دسمبر ۱۹۶۳ءکو وفات پائی۔۵۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس حضرت مولانا نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مقرب صحابی حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی کے فرزند جلیل تھے بلکہ آپ کو خود بھی صحابی ہونے کا فخر حاصل تھا۔آپ جماعت کے نامور مبلغ اور مجاہد تھے آپ جماعت احمدیہ کی پہلی با قاعدہ مبلغین کلاس کے چار طلباء میں سے ایک تھے۔آپ نے عنفوان شباب میں ہندوستان کے طول و عرض میں پیغام احمدیت پہنچایا۔جون ۱۹۲۵ء میں آپ شام تشریف لے گئے جہاں ۱۹۲۸ء تک باوجود نا مساعد ملکی حالات کے کامیاب طور پر کام کیا۔آپ نے وہاں احمد یہ مشن کی بنیا درکھی۔دسمبر ۱۹۲۷ء میں ایک بد بخت نے آپ پر خنجر سے حملہ کر کے آپ کو شدید طور پر زخمی کر دیا۔اور بعد میں فرانسیسی حکومت نے آپ کو دمشق سے نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ آپ سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم پر حیفا فلسطین تشریف لے گئے جہاں آپ نے ایک اور نئے مشن کی بنیاد ڈالی۔اور اپریل ۱۹۳۱ء میں پہلی