جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 331
331 کے لئے ہال اور ایک سٹور بنایا گیا ہے۔ناصر فائر اینڈ ریسکیو سروس کے پاس اس وقت تین عدد فائر ٹرکس اور فائر فائٹنگ اور فرسٹ ایڈ کا ضروری سامان موجود ہے۔عملے میں ایک فائر سپرنٹنڈنٹ، پانچ فائر مین، چار ڈرائیور ایک اکاؤنٹنٹ اور ایک مددگار کے علاوہ چھ دوسرے کا رکن بھی شامل ہیں۔جبکہ ۴۰ سے زائد رضا کار فائر فائٹر ز آن کال ہوتے ہیں۔اکتو بر ۲۰۰۳ء میں حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس فائر سروس کا نام ”ناصر فائر اینڈ ریسکیو سروس رکھنے کی منظوری مرحمت فرمائی۔فائر سٹیشن کے ساتھ خوبصورت سکوائش اور ٹینس کورٹس کے علاوہ ایک ہیلتھ کلب «فضل عمر بھی بنایا گیا ہے۔تمام رضا کار فائر فائٹر ز آن کال ہوتے ہیں۔کسی آتشزدگی کے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پران فائر فائٹرز سے رابطہ کر کے دفتر فائٹنگ ٹیم مطلوبہ مقام پر بلوالی جاتی ہے۔اس کے علاوہ یہ فائر فائٹر ز دیگر اہم مواقع اور جماعتی تقاریب پر بھی ڈیوٹی دیتے ہیں۔(بحوالہ ماہنامہ خالد جولائی ۲۰۰۵ ص ۳۵۔۳۶) نصرت جہاں ہو میو پیتھک کلینک ربوہ لجنہ اماءاللہ ربوہ نے حضور کی اجازت سے ہومیو پیتھک کلینک قائم کیا جس کا باقاعدہ افتتاح ۲۰ دسمبر ۱۹۹۶ء کو ہوا۔یہ عمارت احاطہ دفا تر لجنہ اماءاللہ ربوہ پاکستان کے احاطہ میں واقع ہے۔جہاں علاج مکمل طور پر فری ہوتا ہے۔۱۹ فروری ۲۰۰۳ ء کو اس کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور اس وقت تک ایک لاکھ سے زیادہ مریض استفادہ کر چکے تھے۔ان مریضوں میں سے ایک بڑی تعداد غیر از جماعت کی ہوتی ہے۔اس کلینک کا افتتاح ۱۶ را پریل ۲۰۰۵ ء کو ہوا۔ہیومینیٹی فرسٹ کا قیام ( الفضل ۲۹ مارچ ۲۰۰۳ء) (الفضل ۲۷ اپریل ۲۰۰۵ء ) حضور نے اپنے خطبہ جمعہ فرموده ۲۸ / اگست ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن میں جماعت احمدیہ کے زیر انتظام خدمت خلق کی ایک عالمی تنظیم قائم کرنے کا اعلان فرمایا۔حضور نے فرمایا اب وقت آ گیا ہے کہ جماعت احمد یہ عالمگیر سطح پر ریڈ کر اس وغیرہ کی طرز پر خدمت خلق کی ایک ایسی تنظیم بنائے جو بغیر رنگ ونسل کے امتیاز کے انسانوں کی خدمت کرے۔اس میں صرف احمد یوں کو ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے شریف النفس انسانوں کو شامل کیا جائے گا اور سب کی مالی مدد سے اس کو چلایا جائے گا۔(الفضل ۳۰ راگست ۱۹۹۲ء) چنانچہ ۱۹۹۳ء میں ہیومینیٹی فرسٹ کے نام پر ایک بین الاقوامی تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔جواب تک ۳۵