جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 302
302 ایم ٹی اے (MTA) ے جنوری ۱۹۹۴ء کو خطبہ جمعہ سے ایم ٹی اے کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوا۔ہر احمدی جو خلیفہ وقت سے دوری کا درد محسوس کر رہا تھا۔ان نشریات سے بہت خوش ہوا۔گویا حضور گھر گھر آگئے۔ایم ٹی اے جہاں بڑوں کے لئے علم میں اضافے اور سکون کا باعث بنا وہاں بچوں کی تربیت اور خلافت سے وابستگی کا ذریعہ بھی بنا۔۱۹۹۴ء میں جماعت احمد یہ امریکہ اور کینیڈا کی مشترکہ کوششوں سے ارتھ اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا۔۱۹۹۵ء میں انٹرنیٹ پر احمد یہ ویب سائٹ قائم ہوئی۔یکم اپریل ۱۹۹۶ ء سے چوبیس گھنٹے کی نشریات کا آغاز ہوا۔جولائی ۱۹۹۶ گلوبل ہیم کے ذریعے نشریات جاری ہوئیں۔1999ء میں ڈیجیٹل نشریات کا آغاز ہوا۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو یہ ایک عظیم الشان امتیاز عطا فرمایا ہے کہ جنوری ۱۹۹۳ء سے مسلسل سیٹلائٹ کے ذریعہ ساری دنیا میں دینی پروگرام نشر کئے جا رہے ہیں جو ڈش انٹینا کے ذریعہ ٹیلی ویژن پر دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں۔M۔T۔A پر چومیں گھنٹے ایک درجن سے زائد زبانوں میں پانچوں براعظموں میں ڈیجیٹل نشریات پہنچائی جا رہی ہیں۔اور بیت الفتوح لندن سے بھی Live پروگرام دکھائے جارہے ہیں۔یہ نشریات موبائل فون پر بھی دستیاب ہیں۔ایم ٹی اے پر جو نئے پروگرام ہیں یوٹیوب پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ایم ٹی اے پر جو نئے پروگرامز شروع ہوئے ہیں ان میں اردو میں راہ ہدی اور تاریخی حقائق ، انگریزی میں فیتھ میٹرز (Faith Matters) اور رئیل ٹاک (Real Talk) اور بنگلہ، ڈچ، اور عربی کے پروگرامز ہیں ان پروگراموں کا اللہ کے فضل سے بہت فائدہ ہورہا ہے۔ایم ٹی اے کی نئی شاخیں ایم ٹی اے کے ذریعہ مواصلاتی فتوحات کے تذکرہ میں اس کی نئی شاخوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔۲۳ جون ۲۰۰۳ ء سے ایم ٹی اے کی نشریات 3 Asia Sat پر شروع ہوگئی ہیں اور دنیا کے آخری جزیرہ تاد یونی میں بھی واضح سگنل موصول ہونے لگے۔۲۲ اپریل ۲۰۰۴ء سے ایم ٹی اے کے دوسرے چینل MTA الثانیہ کا اجراء ہوا۔۲۳ مارچ ۲۰۰۶ء کو ایم ٹی اے کے نئے آٹو۔۔۔براڈ کاسٹ سسٹم کا افتتاح ہوا۔• جولائی ۲۰۰۶ء کو انٹرنیٹ پر ایم ٹی اے کی نشریات شروع ہوگئیں۔۲۳ مارچ ۲۰۰۷ء کو ایم ٹی اے العربیہ کا اجراء ہوا۔اس چینل نے عرب دنیا میں ایک ہلچل مچادی ہے