جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 287 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 287

287 فرمارہے تھے۔جلسہ گاہ ہر قسم کے شان و شکوہ سے بالکل عاری تھی۔ایک معمولی سی حد بندی کے وسیع احاطے میں خوش پوش لوگ ہزاروں کی تعداد میں بیٹھے ہوئے تھے۔بیٹھنے کے لئے دریوں تک کا انتظام نہ تھا۔مٹی پر مٹی ہی کے رنگ کی پرالی پھیلی ہوئی تھی جس پر مرزا صاحب کے ہزاروں مرید بے تکلف بیٹھے ہمہ تن گوش بنے جلسہ سن رہے تھے۔“ (اقدام لاہور ۵ جنوری ۱۹۵۳ء) د تنظیم پشاور کا نامہ نگار ۱۹۵۳ء کے جلسہ کے متعلق لکھتا ہے:۔”ہم نے عرسوں میں بھی شرکت کی ہے۔تقریریں سنی ہیں۔قوالیاں سنی ہیں۔حسب مراتب مہمان نوازیاں دیکھی ہیں لیکن جو علی تجاویز عملی کار کر دگی عملی تڑپ عملی نقل وحرکت عملی ولولہ ایک چھوٹی سی جماعت احمدیہ کے اندر ہے وہ ہم نے کے جم غفیر میں بھی نہیں دیکھا۔“ ( تنظیم، پشاور ۴ جنوری ۱۹۵۴ء) ۱۹۵۵ء کے جلسہ سالانہ میں لاہور کے ایک غیر از جماعت دوست اقبال شاہ صاحب بھی شامل ہوئے اور انہوں نے مندرجہ ذیل تأثرات رقم فرمائے :۔ہم اگر تعصب کے جامہ کو اتار کر بغور مشاہدہ و مطالعہ کریں تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ صحیح اسلام کی جھلک ربوہ میں ملتی ہے۔مثلا ربوہ میں نماز کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔آجکل کے مسکرات وسینما وغیرہ نہایت سختی سے منع کئے گئے ہیں حتی کہ سگریٹ نوشی کو بھی بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔۔۔میں نے ایک چیز کا بغور مشاہدہ کیا کہ ہوٹل والے گاہکوں کے پیسوں کا حساب نہیں رکھتے تھے ان کا کہنا تھا کہ یہاں کوئی بے ایمانی نہیں کر سکتا۔جس قدر کھاؤ خوداپنا حساب کر دو۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ کوئی گاہک بھی ایک پیسہ کی بھی بے ایمانی نہیں کرتا تھا اور سب اپنی اپنی جگہ مطمئن تھے۔اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں مستورات بھی شرکت کرتی ہیں۔پردہ میں رہتے ہوئے آزادی کے ساتھ اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتی ہیں اور مردوں کے دوش بدوش چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔مستورات کے جلسہ کا الگ انتظام اور پروگرام ہوتا ہے۔(الفضل ۲۷ جنوری ۱۹۵۶ء) ۱۹۸۴ء سے جماعت احمدیہ کے مرکزی جلسہ سالانہ کور بوہ پاکستان میں منعقد کرنے پر حکومت پاکستان نے پابندی لگا رکھی ہے۔لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب خدا کے فضل سے دنیا کے ہر ملک میں سالانہ جلسے منعقد ہورہے ہیں۔خلافت احمدیہ کے ۱۹۸۴ء میں لندن منتقل ہونے کی وجہ سے اب انگلستان کے جلسہ سالانہ کو مرکزی جلسہ سالانہ ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔جس میں ہر سال پوری دنیا سے ہزاروں احمدی شامل ہو کر اس روحانی اجتماع سے فیضیاب ہوتے ہیں۔الحمد للہ علی ذلک