جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 286 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 286

286 ایک سکھ سردار دھرم است سنگھ صاحب پرنسپل خالصہ پر چارک وڈیالہ تر نتارن ۳۷، ۳۸ء کے سالانہ جلسوں میں شریک ہوئے اور اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا:۔کرسمس کے ایام میں جبکہ لوگ بکثرت دریاؤں ، پہاڑوں، عمارتوں دوسری بے جان چیزوں اور بے معنی نظاروں کو دیکھنے پر اپنا وقت ، پیسہ اور قوت عمل ضائع کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے بعض مخصوص بندے قادیان کو بھاگتے ہیں تا ان بابرکت مسرتوں سے لطف اندوز ہوسکیں جو تمام مذاہب کے نیک اور مخلص لوگوں کے لئے آئندہ زندگی میں مقدر ہیں۔میں نے جماعت احمدیہ کے دو سالانہ جلسے یعنی ۳۷ و ۳۸ ء کے دیکھے ہیں۔وہاں میں نے خوبی ہی خوبی دیکھی ہے۔میں نے کسی کو تمباکو نوشی کرتے ،فضول بکواس کرتے لڑتے جھگڑتے ، بھیک مانگتے ، عورتوں پر آواز کستے ، دھوکا بازی کرتے ، لوٹتے اور لغوطور پر ہنستے نہیں دیکھا۔شرابی ، جواری، جیب تر اش، اس قسم کے بدمعاش لوگ قادیان کی احمدی آبادی میں قطعاً مفقود ہیں۔یہ کوئی معمولی اور نظر انداز کرنے کے قابل خصوصیت نہیں۔کیا یہ بات اس وسیع براعظم کے کسی اور مقدس شہر میں نظر آسکتی ہے؟ یقینا نہیں۔میں بہت مقامات پر پھرا ہوں اور پورے زور کے ساتھ ہر جگہ یہ بات کہنے کو تیار ہوں کہ بجلی کے زبردست جینر یٹر کی طرح قادیان کا مقدس وجود اپنے بچے متبعین کے قلوب کو پاکیزہ علوم منور کرتا ہے اور قادیان میں احمدیوں کی قابل تقلید زندگی اور کامیابی کا راز یہی ہے۔“ (الفضل ۲۸ جنوری ۱۹۳۹ء) اقدام ، لاہور کے نامہ نگار نے ۱۹۵۲ء کے جلسہ میں شرکت کی اور اپنے مضمون میں ربوہ کا تعارف کرانے کے بعد لکھا:۔ہر سال دسمبر کے آخر میں یہاں جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ منعقد ہوتا ہے۔پاکستان کے کونے کونے سے احمدی یہاں کھچے چلے آتے ہیں اور وہ چہل پہل ہوتی ہے کہ اس خاموش بستی کے ذرے ذرے میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور کثرت اثر دہام سے گردو غبار کے بادل اٹھ اٹھ کر دور دراز سے گزرنے والے راہگیروں کو اپنی طرف متوجہ کئے بغیر نہیں رہتے۔اس مرتبہ جہاں ہزاروں احمدی عقیدہ ربوہ میں آ جمع ہوئے تھے وہاں مجھ جیسا سیدھا سا دا مسلمان بھی جا برا جمان ہوا۔میرا خیال تھا کہ انتہائی شدید مخالفت کے باعث اب اس جماعت کے حوصلے پست ہو چکے ہوں گے اور اس مرتبہ جلسہ پر وہ رونق نہیں ہوگی جو ہمیشہ سننے میں آتی ہے لیکن مجمع دیکھ کر میری حیرت کی انتہاء نہ رہی۔جب میں وہاں پہنچا تو جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود احمد جلسہ کا افتتاح کرنے کے لئے جلسہ گاہ میں پہنچ چکے تھے اور اپنی تقریر کے ابتدائی فقرے زبان سے ادا