جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 223
223 ضروری ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۸۱) ۱۱۔نظارت تصنیف و اشاعت کے تحت ایک شعبہ سمعی و بصری بھی قائم ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۸۲) ۱۲۔ایم ٹی اے انٹر نیشنل کی ضروریات کے پیش نظر پروگرام کی تیاری اس شعبہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۸۳)۔ایم ٹی اے انٹر نیشنل سے نشر ہونے والے پروگرام حسب ضرورت ریکارڈ کر کے محفوظ کرنا اور جماعتوں کو مہیا کرنا اس شعبہ کے سپر دہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۸۴) ۱۴۔سلسلہ کی ذیلی تنظیموں و ضلعی و مقامی جماعتوں کو ایم ٹی اے کی ضروریات کے پیش نظر دینی۔علمی ادبی۔معلوماتی اور تفریحی پروگرام تیار کرنے کی تحریک اور رہنمائی کرنا اس شعبہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۸۵) ۱۵۔نظارت تصنیف و اشاعت کے ذمہ ان دیگر فرائض کی بجا آوری بھی ہوتی ہے جو خلیفتہ المسیح کی طرف سے اس کے سپر د کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۱۸۶) نظارت افتاء ۱۔سلسلہ کے فرائض دربارہ افتاء کے لئے ایک نظارت ہے جس کا نام نظارت افتاء ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۸۷) ۲- نظارت افتاء کا یہ کام ہوتا ہے کہ فقہی مسائل کے متعلق استفتاء پر فتوی جاری کرے۔( قاعدہ نمبر ۱۸۸) ۳۔الف:۔اس نظارت کے ماتحت خلیفۃ المسیح کی منظوری سے ایک یا ایک سے زیادہ اشخاص کو مفتی مقر رکیا جاتا ہے۔نیز ایک مجلس افتاء قائم کی جاتی ہے جس کے اراکین کا اعلان سال بسال خلیفتہ المسیح کی طرف سے ہوا کرتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۸۹) ب :۔انتظامی امور انجام دینے کے لئے ناظم دار الافتاء مقرر ہوتا ہے۔مقرر شدہ مفتیان سلسلہ احمدیہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو فتویٰ دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔( قاعدہ نمبر ۱۹۰) ۵۔جو امور قرآن وسنت اور حدیث سے ثابت ہوں یا جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ موجود ہو۔مفتی سلسلہ:۔( قاعدہ نمبر۱۹۱)