جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 224 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 224

224 الف:۔استفتاء پر اس فیصلہ کے مطابق فتوی دیتا ہے۔ب:۔جس امر میں اجتہاد کی ضرورت ہو اور وحدت رکھنی بھی لازمی ہو ایسے امر کے متعلق مجلس افتاء اجتماعی غور کے بعد فتوی تیار کرتی ہے۔ج: مجلس افتاء جوفتوئی تیار کرتی ہے ان کا اجراء خلیفہ مسیح کی توثیق کے بعد ہوتا ہے۔دار القضاء ان کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتی۔۶۔نظارت افتاء کا فرض ہوتا ہے کہ تمام فتاویٰ کا با قاعدہ ریکارڈ اور حسب ضرورت ان کی اشاعت کا انتظام کرے۔( قاعدہ نمبر ۱۹۲) ے۔انتظامی لحاظ سے صیغہ افتاء کا تعلق نظارت علیا سے ہوتا ہے اس صیغہ سے متعلق ناظر والے حقوق صدر صدر انجمن احمدیہ کو حاصل ہوتے ہیں۔( قاعدہ نمبر۱۹۳)۔دار الافتاء کے ماتحت عملہ کی سالانہ ترقیوں اور دیگر معاملات جن کا تصفیہ ناظر ان کے اختیار میں ہے کا فیصلہ ناظم دارالافتاء باتفاق رائے ناظر اعلی کرتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۹۴) ۹- نظارت افتاء کے ذمدان دیگر فرائض کی بجا آوری بھی ہوتی ہے جو خلیفہ امسیح کی طرف سے اس کے سپر د کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۱۹۵) نوٹ :۔فی الحال اس نظارت کا کام صیغہ افتاء کی صورت میں قائم ہے۔نظارت امور عامه ا۔سلسلہ کے فرائض درباره اندرونی معاملات و متفرق امور کے لئے نظارت امور عامہ ہے اور اس کا انچارج ناظر امور عامہ کہلاتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۹۶) ۲۔نظارت امور عامہ کے سپر د جماعت کے اندرونی معاملات مثلاً احتساب۔معاشی استحکام۔انتظام حصول ملازمت و دیگر ذرائع روزگار - نظم وضبط - حفاظت۔خدمت خلق۔رفع تنازعات۔تنفیذ فیصلہ جات قضاء اور حصول اطلاعات وغیرہ ہوتے ہیں۔( قاعدہ نمبر۱۹۷)۔اس نظارت کا یہ بھی فرض ہوتا ہے کہ حفاظت خلیفتہ المسیح وشعائر سلسلہ احمدیہ کا خصوصیت کے ساتھ انتظام کرے۔( قاعدہ نمبر ۱۹۸) ۴۔جماعت کی دنیاوی ترقی کے لئے ایسے ذرائع کا سوچنا جو ان کی انفرادی اور اجتماعی حالت کے لئے مفید ہوں اور ان پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کرنا اور تمام ایسے کام جود نیاوی طور پر فائدہ مند ہوں ان کی فہرست