جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 203
203 مشترکہ کمیٹی ۱۔صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے مرسلہ ایسے معاملات جن میں مالی و انتظامی پہلوز برنخور لائے جانے ہوں مشتر کہ کمیٹی میں پیش ہوتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۶۶) ۲ مشتر کہ کمیٹی کمیٹی محاسبہ ومال اور انتظامیہ کمیٹی پر مشتمل ہوتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۶۷) ۳۔مشترکہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت ناظر دیوان کرتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۶۸) صیغہ پرائیویٹ سیکرٹری ا۔حضرت خلیفہ المسیح کے دفتر کے کام کو چلانے اور بیعت کنندگان کا ریکارڈ رکھنے اور ان کے اسماء شائع کرانے اور آپ کی ڈاک کا جواب دینے اور اس کا ریکارڈ رکھنے اور آپ کے ارشاد کے ماتحت ہر قسم کی امدادی رقوم کی تقسیم کا انتظام کرنے اور اسی قسم کی دیگر خدمت سرانجام دینے کے لئے جو خلیفتہ المسیح اس سے لینا پسند فرمائیں، ایک صیغہ ہے۔جس کا انچارج پرائیویٹ سیکرٹری کہلاتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۶۹) ۲۔پرائیویٹ سیکرٹری کی پوزیشن ناظر اعلیٰ کے تعلق کے ضمن میں ایک ناظر کی سی ہوتی ہے مگر وہ ناظر نہیں کہلا تا اور نہ ہی وہ صدر انجمن احمدیہ کا نمبر ہوتا ہے۔پرائیویٹ سیکرٹری اس حد تک ناطر اعلی کی نگرانی کے ماتحت ہوتا ہے۔جس حد تک ناظران اس کے ماتحت ہیں۔( قاعدہ نمبر ۷۰ ) ۳۔پرائیویٹ سیکرٹری کو اپنے صیغہ میں وہی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو ناظر ان کو اپنے اپنے صیغہ میں حاصل ہوتے ہیں سوائے اس کے کہ ان قواعد کے ماتحت کسی حصہ میں اس کے اختیارات محدود کر دیئے گئے ہوں۔( قاعدہ نمبر اے )۔پرائیویٹ سیکرٹری کے صیغہ کے معاملات دیگر نظارتوں کی طرح ناظر اعلیٰ کی وساطت سے صدر انجمن احمدیہ میں پیش ہوتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۷۲ ) ۵- صدر۔صدر انجمن احمد یہ اور ناظر اعلیٰ کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کا معائنہ کریں یا کسی دفتری اطلاع کے مہیا کئے جانے کا مطالبہ کریں اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کا کوئی ریکارڈ باستثناء اس ریکارڈ کے جسے حضرت خلیفہ اسیح نے مخصوص طور پر صدر صدرانجمن احمد یہ اور ناظر اعلیٰ سے بھی بصیغہ راز رکھنے کا حکم دیا ہوصدر۔صدرانجمن احمد یاور ناظر اعلی سےمخفی نہیں رکھا جاتا۔قاعدہ نمبر۷۳)۔اگر کوئی شخص کسی ناظر کے فیصلہ کے خلاف خلیفہ اسیح کے پاس اپیل کرے تو پرائیویٹ سیکرٹری کا