جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 157 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 157

157 ۵۔۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۱ء تک انگریزوں کی حکومت نے ہندوستان کے آئین میں تبدیلیاں کرنے اور حکومت میں ہندوستانیوں کو شریک کرنے کے سلسلہ میں کئی کوششیں کیں۔اس سلسلہ میں کئی کانفرنسیں ہوئیں جن میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے نمائندوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔کئی کتابیں لکھیں ہندوستان کے سیاسی مسائل کاحل وغیرہ۔چنانچہ مسلمان نمائندوں نے جن میں چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی شامل تھے۔حضور کی ہدایت اور تجویزوں سے بہت فائدہ اٹھایا اور کئی خطروں سے مسلمانوں کو محفوظ کر لیا۔4 کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے مگر وہاں ایک غیر مسلم راجہ کی حکومت تھی جومسلمانوں پر بہت ظلم کرتی تھا اور ہر رنگ میں انہیں وہاں دباتی چلی آتی تھی۔جب یہ مظالم حد سے بڑھ گئے تو حضرت خلیفتہ انسیح الثانی کے دل میں کشمیری مسلمانوں کے لئے بہت ہی ہمدردی پیدا ہوئی چنانچہ آپ نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔آپ کی تحریک سے کشمیری مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوئی اور انہوں نے سردھڑ کی بازی لگا کر اپنی آزادی کی تحریک شروع کی جس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ان کی راہنمائی فرمائی۔ہندوستان کے بڑے بڑے مسلمان لیڈروں نے مل کر ۱۹۳۱ء میں ایک کمیٹی بنائی جس کا نام تھا آ انڈیا کشمیر کمیٹی اس میں ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم اور دوسرے کئی بڑے بڑے مسلمان لیڈر شامل ہوئے اس کمیٹی کا صدر حضرت خلیفہ مسیح الثانی کو بنایا گیا۔اس کمیٹی نے حضور کی راہنمائی میں بہت کامیابی حاصل کی۔کشمیر کے ہندو راجہ کو کئی ایسے حق مسلمانوں کے دینے پڑے جن سے وہ پہلے محروم چلے آتے تھے۔چنانچہ کشمیر کے بڑے بڑے مسلمان لیڈر جن میں شیخ محمدعبداللہ بھی شامل تھے۔حضرت اقدس سے قادیان جا کر ملتے رہے اور انہوں نے زبانی اور تحریری بھی یہ اعتراف کیا کہ حضور نے عین وقت پر کشمیری مسلمانوں کی بہت بھاری مدد کی ہے۔جب مخالفین نے یہ دیکھا کہ احمدی مسلمانوں میں بہت ہی مقبول ہورہے ہیں اور سب بڑے بڑے مسلمان لیڈر ہر ضروری مسئلہ میں امام جماعت احمدیہ سے مشورہ کرتے ہیں اور پھر اس مشورہ پر عمل بھی کرتے ہیں تو حسد کی وجہ سے ان کا براحال ہو گیا انہوں نے کشمیر کمیٹی میں بھی احمدی اور غیر احمدی کا سوال کھڑا کر دیا اور ہر جگہ لوگوں کو احمدیوں کے خلاف بھڑکانے لگے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ان کی شرارتوں کو دیکھا تو آپ نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔مگر اس استعفیٰ کے باوجود کشمیری مسلمانوں کی آخری وقت تک مدد کرتے رہے۔ے۔جب ملک کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا تو اس وقت بھی حضرت اقدس نے مسلمانوں کے مفاد کے لئے بہت سے اہم کام سرانجام دیئے۔قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم ہندوستانی مسلمانوں کے اختلاف دیکھتے ہوئے لندن چلے گئے تھے اور وہاں مستقل رہائش اختیار کر لی تھی۔حضرت اقدس نے اپنے نمائندے کے ذریعے