جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 99
99 مسئله امکان نبوت جماعت احمدیہ کا اس بات پر پختہ ایمان ہے کہ آنحضرت علیہ قرآن مجید کی سورۃ احزاب کے مطابق خاتم النبین ہیں۔اور یہ وصف اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف آپ کو ہی ملا ہے۔ختم نبوت کا انکار جماعت احمدیہ پر الزام ہے۔جس کی تغلیط حضرت بانی سلسلہ کے وہ سینکڑوں حوالہ جات کرتے ہیں جن میں آپ نے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ نے اپنی جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا:۔ا۔عقیدہ کی رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک ہے اورمحمد ﷺ اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے۔اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور پر محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔“ (کشتی نوح ص ۱۵-۱۶)۔اور لعنت ہے اس شخص پر جو آنحضرت ﷺ کے فیض سے علیحدہ ہو کر نبوت کا دعوی کرے۔مگر یہ نبوت آنحضرت ﷺ کی نبوت ہے نہ کوئی نئی نبوت اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ اسلام کی حقانیت دنیا پر ظاہر کی جائے۔اور آنحضرت کی سچائی دکھلائی جائے۔“ مندرجہ بالا حوالہ جات میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جس قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس کی تائید (چشمہ معرفت ص ۳۲۵) تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ بھی کرتی ہے:۔اگر چہ اس امر سے انکار نہیں کیا جاتا کہ مرزا غلام احمد نے نبی کا لفظ اپنے لئے استعمال کیا ہے۔لیکن یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ لفظ ایک خاص معنی میں استعمال کیا ہے اور وہ اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے نبی نہ تھے۔یعنی وہ اللہ کی طرف سے کوئی ایسا پیغام نہ لائے تھے جس سے سابقہ پیغام کی تنسیخ ، ترمیم یا ایزادی لازم آتی ہو۔اور ان کا دعویٰ تشریعی نبوت کا نہیں بلکہ کل یا بزوری نبوت کا ہے۔“ رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء ص ۱۹۸) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ آپ نے اس نبوت کا ہرگز دعوی نہیں کیا جو علماء یا دیگر مخالفین جماعت مراد لیتے ہیں۔بلکہ یہ نبوت کی ایک ایسی قسم ہے جو صرف آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع اور آپ کی محبت میں فنا ہونے کی صورت میں مل سکتی ہے۔جس کی تصدیق قرآن و حدیث اور بزرگان امت کے اقوال سے ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی سورہ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ مِنَ النَّبِيِّينَ