جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 51
51 اس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تاتار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرح دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشمه خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک تو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ ہے شور محبت عاشقان زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص سکتا کون پڑھ ہے سارا دفتر ان اسرار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں کھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا زنده رسول (سرمه چشمه آری ص ۴، در مشین اردو) ”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا۔قمر میں نہیں تھا آفتاب میں نہیں تھاوہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولی سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی ام لیتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام ص ۱۳۸ - ۱۳۹) ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تمام مرسلوں کا سرتاج۔جس کا نام محمد مصطفی واحد مجتبی ﷺ ہے جس کے زیر سایہ دس ا دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی۔“ (سراج منیر ص ۸۰)