جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 640 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 640

640 تمام وعدے حرف بحرف پورے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کی اس تائید و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت بانی سلسلہ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں:۔۔یه سراسر فضل و احسان ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگاہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خُدا جانے کہاں پھینک دی جاتی غبار پر اس قدر مجھ ہوئیں تیری عنایات و کرم که تا روز قیامت ہو شمار ہے جن کا مشکل اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیان بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیر بار کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا معتقد لیکن اب دیکھو کہ چرچا کس قدر ہے ہر کنار اُس زمانے میں خدا نے دی تھی شہرت کی خبر جو کہ اب پوری ہوئی بعد از مرور روزگار پھر ذرا سوچو کہ اب چرچا میرا کیسا ہوا کس طرح سرعت سے شہرت ہو گئی درہر دیار اس قدر نصرت کہاں ہوتی ہے اک کذاب کی کیا تمہیں کچھ ڈر نہیں ہے کرتے ہو بڑھ بڑھ کے وار کوئی کاذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر ہے میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار پر میرے مولیٰ نے دیئے مجھ کو نشاں ہر عدو پر تحجبت حق کی پڑی ہے ذوالفقار آنکھ رکھتے ہو ذرا سوچو کہ یہ کیا راز ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ قدوس ہو کاذب کا یار ہر قدم (از در تمین)