جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 628
628 چنانچہ بعد میں تقریباًے سال قید کاٹنے کے بعد اسیران راہ مولی سکھر۔۱۹۹۲ء میں باعزت طور پر بری ہو گئے۔اسی طرح اسیران راه مولی مکرم برادرم محمد الیاس منیر صاحب مربی سلسلہ اور ان کے ساتھی مکرم رانا نعیم الدین صاحب، مکرم حاذق احمد صاحب، مکرم نثار احمد صاحب اور مکرم عبدالقدیر صاحب ۱۰ سال کی قید کے بعد ۱۶ مارچ ۱۹۹۴ء کو باعزت رہا ہوئے۔جبکہ ان میں سے ایک بزرگ را نا محمد دین صاحب اسی قید کے دوران ہی اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔تین ہزار ایک سو تیرہ احمدیوں کے خلاف مختلف مقدمات قائم کئے گئے۔جن میں سے بے شمار احمد یوں کو کئی کئی سال با مشقت قید اور ہزاروں روپے کے جرمانے سنائے گئے۔ان مقدمات کی تفصیل اخبار کے مطابق یہ ہے:۔پاکستان کے احمدیوں کے خلاف اپریل ۱۹۸۴ء تا اکتوبر ۲۰۱۰ء رجسٹر کئے جانے والے مقدمات کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ا کلمہ طیبہ کا بیج لگانے یا گھروں اور بیوت الذکر پر کلمہ طیبہ لکھنے کے جرم میں ۷۶۴ مقدمات۔۲۔اذان دینے کے جرم میں۔۳۸ مقدمات ۳۔اپنے اپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے جرم میں۔۴۳۴ مقدمات ۴۔اسلامی اصطلاحات کے استعمال کرنے پر۔۱۶۱ مقدمات ۵۔نماز ادا کرنے کے جرم میں۔تبلیغ کرنے کے جرم میں۔۹۳ مقدمات ۷۲۱ مقدمات ۷۔صد سالہ جشن تشکر ۱۹۸۹ء کے جرم میں ۲۷ مقدمات۔۔چاند اور سورج گرہن کے نشان کے ظہور کی صد سالہ جوبلی منانے کے الزام میں ۵۰ مقدمات ۹۔اک حرف ناصحانہ تقسیم کرنے کے الزام میں۔۱۰۔دعوت مباہلہ پرمبنی پمفلٹ تقسیم کرنے کے الزام میں۔۲۷ مقدمات ۱۴۸ مقدمات ۲۷ مقدمات ۱۔قرآن کریم جلانے کے الزام میں۔۱۲ اینٹی احمدیہ آرینس ۱۹۸۴ء کی شق B/C-298 کے ارتکاب کے الزام میں۔۹۷۸ مقدمات ۲۹۵ مقدمات ۱۳۔توہین رسالت کے الزام میں ۱۴۔اینٹی احمد یہ آرڈینینس ۱۹۸۴ء کی خلاف ورزی کرنے پر امام جماعت کے خلاف کے مقدمات ۱۵۔موجودہ امام جماعت احمدیہ کے لندن مقیم ہونے کے الزام پر۔ایک مقدمہ