جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 620
620 شہدائے لاہور پاکستان کے ثقافتی مرکز اور پنجاب کے دار الحکومت لاہور میں مورخہ ۲۸ رمئی ۲۰۱۰ء بروز جمعۃ المبارک دو پہر تقریباڈیرہ بجے احمد یہ بیوت الذکر گڑھی شاہو اور بیت نور ماڈل ٹاؤن پر مسلح افراد کے منظم حملوں سے ۸۶ احمدی احباب راہ مولیٰ میں قربان ہو گئے اور ۱۲۴ سے زیادہ زخمی ہو گئے۔یہ حملے بیوت الذکر میں اس وقت ہوئے جب احباب جماعت جمعہ کے لئے بیوت میں اکٹھے ہو چکے تھے۔دارالذکر گڑھی شاہو میں اور ماڈل ٹاؤن میں مربیان کرام نے خطبہ دینا شروع ہی کیا تھا کہ یہ اندوہناک واقعات وقوع پذیر ہوئے۔تفصیلات کے مطابق ماڈل ٹاؤن کے سی بلاک میں واقع بیت نور میں ۲ دہشت گرد جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے ہوئے مین گیٹ سے گارڈ کو ہلاک کر کے اندر داخل ہوئے۔ان میں سے ایک نے محراب کی طرف سے ایک کھڑکی کا شیشہ توڑ کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔جبکہ دوسرا دہشت گرد اس طرف سے بیت میں داخل ہوا جہاں جو تے رکھے جاتے ہیں اور اس نے ہینڈ گرنیڈ پھینکا اور فائر کھول دیا۔ڈیوٹی پر متعین خدام نے جانفشانی اور جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دہشت گرد کو پیچھے سے بازوؤں کے ذریعہ پکڑ لیا اور بے بس کر دیا۔اس حملہ آور نے خود کش جیکٹ پہنی تھی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس سے محفوظ رکھا اور مزید نقصان سے بچالیا۔جبکہ دوسرے حملہ آور کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ماڈل ٹاؤن کے اس وحشیانہ حملے میں بہت دیر تک گولیوں کی بارش اور بلاسٹ ہوتے رہے۔متعدد احباب نے تہہ خانے میں اور ادھر ادھر بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں۔تاہم میجر جنرل مکرم (ر) ناصر احمد صاحب صدر جماعت احمدیہ ماڈل ٹاؤن سمیت ۲۶/ افراد اللہ کو پیارے ہو گئے اور ۳۵ سے زائد زخمی ہوئے۔جنہیں جناح ہسپتال ، شیخ زاید ہسپتال، میوہسپتال اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔جہاں فوری طور پر طبی امداد دی گئی اور خدام خون دینے کے لئے مختلف حلقوں سے ہسپتال پہنچ گئے۔گڑھی شاہو میں واقع دارالذکر میں عینی شاہدین کے مطابق ۶ سے ۸ دہشت گرد مین اور پچھلے گیٹ سے داخل ہوئے۔۴ زور دار دھماکے اور فائرنگ کر کے حملہ آوروں نے دوسری منزل اور مینار پر چڑھ کر پوزیشن سنبھال لی تا کہ پولیس اور دیگر فورسز اندر نہ آجائیں۔ابھی دارالذکر میں جمعہ شروع نہیں ہوا تھا تا ہم ہال نمازیوں سے بھرا ہوا تھا۔تین بلاسٹ ہال کے اندر اور ایک باہر ہوا۔تقریباً ۲ دو گھنٹے تک دہشت گردوں نے احباب کو