جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 590 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 590

590 کمشنر مقرر کیا گیا۔آپ پارلیمنٹ کے مبر بھی منتخب ہوئے۔آپ ایسے عمدہ مقرر تھے کہ ایک موقع پر ٹا نگانیکا کی پارلیمینٹ میں یہ بل پیش ہوا کہ جو ایشیائی اور یوروپی وہاں کی شہریت حاصل کر چکے ہیں انہیں بہت سے حقوق سے محروم کر دیا جائے۔اکثریت کا جھکاؤ اس بل کی حمایت کی طرف ہو گیا۔صدر مملکت نے پوری کوشش کی کہ ممبران اکثریت اس بل کی حمایت نہ کرے بلکہ استعفیٰ کی دھمکی بھی دی مگر سب بے سود۔اس مرحلہ پر عمری عبیدی صاحب نے ایک گھنٹہ اس موضوع پر تقریر کی اور اس عمدگی سے دلائل پیش کئے کہ جب رائے شماری کرائی گئی تو یہ قرار داد بری طرح مسترد کر دی گئی۔ملکی سطح پر آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے ایسے جو ہر دکھائے کہ جلد ہی ملک کے پہلے صدر جولیس نیریرے نے انہیں ملک کی کابینہ میں لینے کا فیصلہ کیا اور ۱۲ مارچ ۱۹۶۲ء کو آپ کو ملک کا وزیر انصاف مقرر کیا گیا۔جب ٹانگانیکا اور زنجبار کا الحاق ہوا اور تنزانیہ کے نام سے نیا ملک وجود میں آیا تو آپ کو ثقافت اور Community Developpent کا وزیر مقرر کیا گیا۔آپ باوجود نہایت مصروف ہونے کے نماز باجماعت کا اہتمام کرتے تھے۔۱۹۶۴ء میں جماعت احمدیہ کو مکرم عمری عبیدی صاحب کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔آپ کی وفات سے جہاں ایک طرف پوری دنیا کے احمدیوں کے دلوں کو صدمہ پہنچا وہاں یہ اپنے ملک تنزانیہ کے لئے بھی ایک عظیم نقصان تھا۔استفاده از سلسلہ احمدیہ حصہ دوم ص ۶۰۱ ۶۰۲ از ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب) ۶۔حضرت ملک عبدالرحمن خادم صاحب ایڈووکیٹ جماعت احمدیہ کی ایک صدی سے زائد عرصہ پر محیط تاریخ کے مطابق ہر قسم کے ادوار اور دنیا جہاں کے ہر حصہ میں جن خوش نصیب خادمان احمدیت کو دعوت الی اللہ کے میدان میں یادگا ر خدمات کی سعادت ملی۔ان میں مرحوم محترم جناب ملک عبد الرحمن صاحب خادم بی۔اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ امیر جماعت ہائے احمد یہ شہر وضلع گجرات کا اسم گرامی بہت نمایاں ہے۔کالج کے زمانہ طالب علمی سے لے کر قانون کی پریکٹس کے دوران تا دم آخر پورے برصغیر کے میدان مناظرات میں آپ کا طوطی بولتا رہا۔حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ کی زبان مبارک سے آپ کو خالد احمدیت“ کا خطاب ملا۔وفات پر روز نامہ الفضل نے آپ کو احمدیت کے بہادر سپاہی اور سلسلہ کے دلیر اور نڈر مجاہد کے نام سے یاد کیا۔ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن گجرات نے اپنی قراداد میں لکھا کہ:۔ایک عالم ہمارے درمیان سے اٹھ گیا ہے جو ہمہ گیر لیاقت اور تخلیقی صلاحیتوں کا حامل تھا۔“ ۱۹۳۶ء سے ۱۹۵۶ء تک آپ کو ہر سال جلسہ سالانہ پر خطاب کرنے کا اعزاز ملا۔۱۹۴۰ء میں امیر