جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 587 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 587

587 حضرت شیخ صاحب ۱۹۴۹ء سے ۱۹۹۳ء عرصه ۴۴ سال تک ضلع لائل پور اور حال فیصل آباد کے امیر رہے تھے۔۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کا جو وفد پیش ہوا۔اس میں حضرت خلیفۃ الثالث کے علاوہ جو چار بندگان احمدیت پیش ہوئے ان میں ایک آپ بھی تھے۔حضرت شیخ صاحب پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔ہمیشہ چوٹی کے وکلا میں شمار ہوتا تھا۔احمدیوں کے علاوہ غیر از جماعت قانون دان طبقہ آپ کا بے حد احترام کرتا تھا۔آپ نے کشمیر کمیٹی کے زیر اہتمام حضرت امام جماعت احمدیہ الثانی کی رہنمائی میں اہل کشمیر کی قانونی خدمات سرانجام دیں اور ایک اندازے کے مطابق آپ نے اپنی قانونی جنگ سے ۲۰۰ کے قریب کشمیریوں کو جیلوں سے رہا کروایا۔حضرت شیخ صاحب نے شدھی کے محاذ پر بھی اہم خدمات انجام دیں۔حضرت شیخ محمداحمد مظہر صاحب نے جماعتی سطح پر نہایت اہم اور تاریخی خدمات انجام دیں۔آپ نہایت اہم جماعتی ادارے وقف جدید کے سالہا سال تک صدر رہے اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی زندگی میں دو سال آپ نے جماعتی مجلس مشاورت کی صدارت بھی کی۔آپ کو زندگی بھر جماعت کی بھر پور خدمت کی توفیق ملی۔آپ مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۹۳ء کو وفات پا کر اپنے مولیٰ کریم کے حضور حاضر ہو گئے اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔۴۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ پیدائش اور ابتدائی حالات حضرت مرزا عبدالحق صاحب کی پیدائش جنوری ۱۹۰۰ء میں ان کے آبائی وطن جالندھر شہر میں ہوئی۔ان کے والد بزرگوار کا نام قادر بخش صاحب تھا۔بچپن میں ہی والدین کے سایہ عاطفت سے محروم ہو گئے۔والد صاحب کی وفات کے بعد اپنے سب سے بڑے بھائی بابوعبد الرحمن صاحب کے پاس شملہ میں رہے۔آپ کے چچا اور بھائی کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی غلامی میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔۱۹۱۳ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب شملہ تشریف لے گئے۔آپ کا قیام جاکھو میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی پر تھا۔احباب جماعت کا وہاں آنا جانا تھا۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب بھی حاضر ہوئے۔آپ پر حضرت صاحبزادہ کی شخصیت اور تقدس کا بہت گہرا اثر ہوا۔آپ نے ۱۹۱۶ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو بیعت کا خط لکھا اور احمدیت میں شمولیت کی سعادت حاصل کی۔