جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 586 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 586

586 مسلمانان کشمیر کی بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔ایک زمانے میں آپ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے رکن کے طور پر بھی خدمات بجالاتے رہے پھر ۱۹۳۳ء میں جبکہ آپ انگلستان میں تھے۔آپ نے وہاں قائد اعظم مسٹرمحمد علی جناح مرحوم سے متعد د ملاقاتیں کیں۔اور انہیں ہندوستان واپس جا کر مسلمانوں کی سیاسی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا۔چنانچہ قائد اعظم مرحوم نے واپس آنے سے قبل ۷ اپریل ۱۹۳۳ء کومسجد احمد یہ لندن میں عید الاضحیٰ کے موقعہ پر ہندوستان کے مستقبل کے متعلق تقریر فرمائی تو اس کے ابتداء میں محترم در دصاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔امام مسجد نے مجھے ترغیب دی۔اور اسی ترغیب میں ان کی فصاحت و بلاغت نے میرے لئے کوئی راہ فرار نہیں چھوڑی۔ان کی پُر زور تحریک کی وجہ سے میں سیاسی سٹیج پر کھڑا ہونے کے لئے مجبور ہوا ہوں۔ان کے انگریزی الفاظ یہ تھے۔"The eloquent persuasion of th Imam left me no escape۔" ہماری ہجرت اور قیام پاکستان ص ۱۱) علمی ریسرچ اور تصنیفات: اللہ تعالیٰ نے آپ کو علمی ریسرچ کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔چنانچہ دیگر تبلیغی اور دینی مصروفیات کے ساتھ علمی ریسرچ کا سلسلہ آخر دم تک جاری رہا۔اور آپ نے متعدد کتب انگریزی اور اردو زبان میں تصنیف فرما ئیں۔ان میں لائف آف احمد ، اسلامی خلافت ، مسلمان عورت کی بلندشان ، بانی سلسلہ احمدیہ اور انگریز خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔حضرت مولانا در دصاحب نے مورخہ ۷ دسمبر ۱۹۵۵ء کو۸۲ سال کی عمر میں وفات پائی اور اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔- حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مخلص اور فدائی رفیق حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کے صاحبزادے تھے۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر علم لسانیات۔فلالوجی کے عالمی سطح کے ماہر تھے۔آپ کی لگ بھگ ایک درجن کتب اس بارے میں شائع ہو چکی ہیں جن میں آپ نے عربی زبان کو تمام زبانوں کی ماں (ائم الالسنہ ) ثابت کیا ہے۔اس ضمن میں آپ نے عربی کو جن زبانوں کی ماں ثابت کیا ہے ان میں نمایاں اور قابل ذکر انگریزی اور سنسکرت وغیرہ زبانیں ہیں۔آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے فارسی زبان میں بھی مہارت رکھتے تھے۔اس کے علاوہ ۳۰۔۳۵ زبانوں کے بارے میں آپ اپنا تحقیقی کام مکمل کر چکے تھے۔