جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 585
585 اصحاب کبار میں شمولیت کا شرف حاصل تھا۔آپ نے احمدیت کی آغوش میں تربیت پائی بچپن میں ہی آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کرنے اور آپ کے ارشادات سنے اور ان کو ذہن نشین کرنے کا موقع ملا۔اور اس طرح آپ کو حضور علیہ السلام کے صحابہ میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا۔صلى الله محترم در دصاحب مرحوم ان ممتاز اور قدیم خلصین جماعت میں سے تھے۔جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد خلافت ثانیہ کے ابتدائی ایام میں اپنی زندگی خدمت اسلام کے لئے وقف کی اور پھر وفات کے وقت تک اپنے اس عہد کو نہایت درجہ اخلاص و ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ اس شان اور خوبی سے نبھایا کہ جس پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔جب ۱۹۲۴ء میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی تبلیغی اغراض کے تحت انگلستان تشریف لے گئے ، تو آپ کو وہاں حضور کی معیت میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔حضور کے واپس تشریف لے آنے کے بعد آپ انگلستان مشن کے مبلغ انچارج اور امام مسجد لندن کی حیثیت سے وہیں مقیم رہے اور نہایت کامیابی کے ساتھ فریضہ تبلیغ ادا کرنے کے بعد ۲۲ اکتوبر ۱۹۲۸ء میں دوبارہ انگلستان تشریف لے گئے اور وہاں پانچ سال تک تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنے میں مصروف رہے۔آپ نے وہاں اپنے دوران قیام میں اس خوش اسلوبی سے تبلیغ کا فریضہ ادا کیا کہ انگلستان کے علمی طبقے میں اسلام کا خوب چرچا ہوا۔اور بالخصوص وہاں کا پریس اسلام اور ہادی اسلام حے کے اذکار مقدس سے گونج اٹھا۔خدمات سلسلہ:۔انگلستان سے واپس آنے کے بعد آپ صدرانجمن میں مختلف عہدوں پر فائز رہ کر خدمات سلسلہ بجالاتے رہے۔ایک لمبا عرصہ آپ کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر کام کرنے کی سعادت میسر آئی۔علاوہ ازیں تعلیم و تربیت امور عامہ اور امور خارجہ کے شعبوں میں آپ نے ناظر کی حیثیت سے نہایت گرانقدر خدمات سرانجام دیں نیز کچھ عرصہ آپ نے انگریزی ترجمۃ القرآن کا کام بھی کیا اور ایڈیشنل ناظر اعلیٰ کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔عرصہ دراز تک آپ ناظر امور خارجہ کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔حتی کہ وفات سے کچھ دیر قبل آپ دفتر میں مفوضہ فرائض کی سرانجام دہی میں مصروف تھے۔اور کام کے دوران میں آپ کو ضعف کا شدید دورہ ہوا۔جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے۔اور دو گھنٹے کی مختصر علالت کے بعد جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔مسلمانان ہند کی خدمات : محترم در د صاحب مرحوم نے اپنی زندگی جہاں خدمت اسلام کے لئے وقف کئے رکھی۔وہاں آپ نے مسلمانان ہند کی بھی کچھ کم خدمات سرانجام نہیں دیں۔جب سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱۹۳۱ء میں کشمیر کمیٹی کے صدر مقرر ہوئے۔اور کشمیر میں آزادی کی مہم کا پوری شدت سے آغاز ہوا۔تو اسی زمانے میں محترم درد صاحب مرحوم نے کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری کی حیثیت سے