جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 582
582 دس قومی ، ملی ، سیاسی ، سماجی وعلمی شخصیات ا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب حضرت اقدس مسیح موعود کے رفیق تھے۔بین الاقوامی شہرت کے مالک تھے۔۱۹۶۲ء میں یونائیٹڈ نیشنز (UN) کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ( عالمی عدالت انصاف) کے حج کی حیثیت سے کام کیا۔تحریک پاکستان میں خدمات سرانجام دیں۔قائد اعظم محمد علی جناح کے با اعتماد ساتھی تھے۔1947 ء سے 1954 ء تک پاکستان کے وزیر خارجہ رہے۔آپ نے قرآن مجید، حدیث کی کتاب اور حضرت مسیح موعود کی کچھ کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا آپ سلسلہ کے کاموں میں دل کھول کر خرچ کرتے۔غریب طلباء اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے۔آپ نے اپنی زندگی کے حالات پر مشتمل ایک کتاب تحدیث نعمت لکھی جو ایک مانی ہوئی تاریخی اہمیت کی حامل دلچسپ کتاب ہے۔اس کے علاوہ بھی آپ کی تقاریر اور مضامین دینی و علمی لحاظ سے بلند درجے کے ہیں۔یہاں یہ بتاناضروری ہے کہ عہد حاضر میں ملت اسلامیہ کی قانونی اور آئینی خدمات بجالانے کا جو عالمی فخر و امتیاز احمدیت کے اس بطل جلیل حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو حاصل ہوا وہ رہتی دنیا تک یاد گار رہے گا۔موجودہ دور کی مسلم دنیا کی کوئی تاریخ مکمل نہیں قرار دی جاسکتی جب تک کہ اس میں آپ کے نا قابل فراموش کارناموں کا ذکر نہ کیا جائے۔کشمیر، فلسطین، پاکستان ،مصر، شام، ایران، مراکش، تیونس، لیبیا، لبنان ،شرق الاوسط، الغرض عرب و عجم کے مسلم ممالک کے مسائل کی یو۔این۔او میں ترجمانی کا حق آپ نے اس شان کے ساتھ ادا کیا کہ اردن، شام، صومالیہ اور مراکش نے آپ کی شاندار اور مجاہدانہ خدمات کے اعتراف میں اپنے سب سے اعلیٰ نشان آپ کی خدمت میں پیش کئے اور پوری دنیا کی اسلامی صحافت میں آپ کے کار ہائے نمایاں کی دھوم مچ گئی۔رسالہ 'طلوع اسلام مارچ ۱۹۴۸ء نے حضرت چوہدری صاحب کی اقوام عالم میں مسئلہ کشمیر کی کامیاب وکالت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:۔حسن اتفاق سے پاکستان کو ایک ایسا قابل وکیل مل گیا جس نے اس کے حق وصداقت پر مبنی دعوے کو اس انداز سے پیش کیا کہ اس کے دلائل و براہین ، عصائے موسوی بن کر، رسیوں کے ان تمام سانپوں کو نگل گئے اور ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ اِنَّ البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ( باطل بنا ہی اس لئے ہوتا ہے کہ حق کے مقابلہ میں میدان