جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 575 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 575

575 والے پہلے مشنری کا اعزاز حاصل کیا آپ کے ذریعہ گیمبیا مشن کا قیام ہوا۔آپ کے قیام کے دوران سر۔ایف۔ایم سنگھائے احمدی ہوئے جو کہ گیمبیا کے ۱۹۶۵ء میں آزادی ملنے پر قائم مقام اور پھر مستقل گورنر جنرل مقرر ہوئے۔۱۹۶۶ ء میں انہیں حضرت مسیح موعود کے کپڑوں کا تبرک ملا اور بادشاہ تیرے کپڑوں۔برکت ڈھونڈیں گے والی پیشگوئی پوری ہوئی۔ނ آپ مختلف اوقات میں ۱۹۷۳ء تک گیمبیا میں رہے۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے مقام نیم پرفائز مربیان میں آپ کو شمار کیا۔مرکز سلسلہ میں مینیجر الفضل، ناظم دار القضاء،سیکرٹری مجلس نصرت جہاں ہمبر مجلس افتاء، استاد جامعہ احمدیہ اور زعیم اعلیٰ انصار اللہ ربوہ بھی رہے۔کئی کتب کے مصنف تھے۔۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء کو وفات پائی۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔۱۴- محترم قریشی محمد افضل صاحب آپ ۲/ اگست ۱۹۱۴ء کو پیدا ہوئے۔۱۹۳۴ء میں مولوی فاضل پاس کیا اور قادیان میں افضل بردارز حال گولبازار ربوہ ) کے نام سے اپنے بھائی کے ساتھ دوکان شروع کی۔۱۹۴۵ء میں وقف کیا اور نائیجیریا بھجوائے گئے۔آپ کو مختلف اوقات میں نائیجیریا، غانا، سیرالیون، آئیوری کوسٹ اور ماریشس میں بطور مربی اور مشنری انچارج رہ کر خدمت کی توفیق ملی۔بیرون ممالک آپ کا عرصہ خدمت ۲۸ سال ہے اور یہ سارا عرصہ فیملی کے بغیر باہر مقیم رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مقام نعیم پر فائز مربیان میں آپ کا بھی تذکرہ فرمایا۔اور بیبا مبشر کے نام سے یاد فرمایا۔آپ ۱۹۹۰ء میں ریٹائر ہوئے۔۱۹۵۱ء میں ۳۸ دن تک ارض حجاز میں اسیر رہے۔ربوہ میں ایک مقدمہ C - ۲۹۸ کا بھی قائم ہوا۔۲۱ نومبر ۲۰۰۲ ء کو ۸۸ سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔۱۵- محترم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب چار براعظموں میں خدمت کی توفیق پانے والے مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب ۲۵ ستمبر ۱۹۲۲ء کو پیدا ہوئے۔۱۹۴۶ء میں زندگی وقف کی۔۱۹۵۱ء میں غانا بھجوائے گئے مختلف اوقات میں ۱۹۷۰ء تک مغربی افریقہ میں بطور مربی اور امیر و مشنری انچارج خدمات کی توفیق پائی۔۱۹۷۷ء تا ۱۹۸۴ء امریکہ اور پھر جرمنی میں امیر و انچارج مربی خدمت کی سعادت حاصل کی۔شرق اوسط میں خدمت کا موقعہ ملا۔مرکز میں رہتے ہوئے سیکرٹری حدیقہ المبشرین ،سیکر ٹری مجلس نصرت جہاں، قائم مقام اور وائس پرنسپل جامعہ احمدیہ کے طور پر