جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 560
560 حضرت قاضی صاحب متبحر عالم تھے سالہا سال تک درس القرآن اور درس حدیث دیتے رہے۔ہر قسم کے دینی علوم میں بڑا گہرا مطالعہ اور ٹھوس علمی شعور رکھتے تھے۔جماعت کے اختلافی عقائد کے بارے میں خصوصاً ان کا مطالعہ بہت دور رس اور گہرا تھا۔قریباً ہر سال جلسہ سالانہ پر تقریر فرماتے تھے۔لوگ نہایت ذوق و شوق سے ان کی تقاریر سنتے تھے تحقیق اور مطالعہ کا نچوڑ ان کی قریباً نصف صد کتب ہیں۔ان کی بعض کتب کا ترجمہ بنگالی اور انگریزی میں ہو چکا ہے۔آپ نے مورخہ ۷ ستمبر ۱۹۸۰ء کو ۸۲ سال کی عمر میں وفات پائی۔۹۔حضرت ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ حالات زندگی حضرت ملک سیف الرحمان صاحب ۱۱ نومبر ۱۹۱۴ء کو پیدا ہوئے۔ان کے والد بزرگ کا نام ملک دوست محمد تھا۔آپ موضع کھونکہ ڈاکخانہ سوڈھی جے والی تحصیل خوشاب ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔احمدیت قبول کرنے سے قبل آپ نے کاوہ ضلع کیمپلپور میں صرف و نحو پڑھی۔ادب وفقہ کی تعلیم تمن ضلع کیمپلپور سے حاصل کی۔اس کے بعد جامعہ عباسیہ بہاولپور، مدرسہ نظامیہ حیدر آباد دکن دار العلوم رحیمیہ لاہور، مدرسه فتحپوری دہلی مدرسہ امینیہ دہلی ، نیز دیوبند اور سہارنپور کے مشہور دینی اداروں سے دینی تعلیم حاصل کی۔قبول احمدیت آپ کا وجود ۱۹۳۴ء میں برپا ہونے والی جماعت احمدیہ کے خلاف احرار شورش کا حسین اور شیریں پھل تھا اس شورش کے دوران آپ نیلہ گنبد لاہور کی مسجد سے احمدیت کے خلاف تقریریں کیا کرتے تھے اور علماء میں شامل تھے۔احمدیت کے خلاف مہم تیز ہوئی تو آپ کو احمدی لٹریچر پڑھنے کا موقعہ ملا۔طبیعت سعید اور فطرت نیک تھی تھوڑا عرصہ مطالعہ کیا اور ۱۹۳۶ء میں احمدیت کی آغوش میں آئے اور دنوں اور ہفتوں میں ایمان اور اخلاص میں وہ بے مثال ترقی کی کہ بہتوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔مارچ ۱۹۳۹ء میں آپ نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کر دی۔اس سے قبل احمدی ہونے کے بعد آپ نے قادیان سے پرائیویٹ مولوی فاضل کیا اس کے بعد مدرسہ احمدیہ میں صرف ونحو اور ادب و معانی کے مضامین پڑھانے پر مامور ہوئے۔وقف زندگی کرنے کے بعد حضرت فضل عمر نے فرمایا کہ خود بھی پڑھیں اور دوسروں کو بھی پڑھائیں۔چنانچہ فصول اکبری وغیرہ صرف ونحو کی کتب پڑھاتے رہے۔اور اپنا مطالعہ بھی جاری رکھا۔اس کے بعد سید نا حضرت امام جماعت