جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 556
556 ناظر اعلیٰ کی خدمات بجالاتے رہے۔ایک لمبے عرصے تک آپ مجلس کار پرداز بہشتی مقبرہ کے صدر رہے ۱۹۶۲ میں آپ کو ناطر اصلاح وارشاد مقرر کیا گیا۔اس عہدہ پر آپ وفات تک سرفراز رہے۔ہجرت کے وقت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی قادیان سے واپسی کے بعد قادیان کی جماعت کے امیر مقرر ہوئے جماعت احمد یہ ربوہ کے بھی ایک لمبے عرصے تک جنرل پریذیڈنٹ رہے۔حضرت مصلح موعود اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ اپنی موجودگی میں اکثر آپ کو مرکز میں امیر مقامی مقر فرماتے رہے ان کاموں کے علاوہ آپ بورڈ آف قضا اور افتاء کمیٹی کے ممبر تھے۔انجمن احد یہ اور ادارۃ المصنفین کے ممبر ہونے کا بھی آپ کو شرف حاصل تھا۔غرض آپ نے نہایت قابل فخر اور قابل رشک کام کی زندگی گزاری۔آپ نے مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۶۶ء کو وفات پائی۔۶۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب حضرت شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو پیدا ہوئے۔ابتدائی ایام رعیہ ضلع سیالکوٹ میں گزارے جہاں آپ کے والد بزرگوار حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابہ میں سے تھے ) بہ سلسلہ ملازمت متعین تھے۔۱۹۰۳ء میں تعلیم کے لئے آپ کو قادیان بھجوایا گیا جس کی وجہ سے آپ کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کرنے اور حضور کی مقدس صحبت سے فیضان حاصل کرنے کا موقع میسر آ گیا۔۱۹۰۸ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے موقعہ پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایماء پر آپ نے خدمت دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے کا عہد کیا۔پھر آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوگئے لیکن دو سال بعد سید نا حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر آپ کالج کی تعلیم چھوڑ کر قادیان آگئے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر بزرگان سلسلہ سے شرف تلمذ حاصل کیا۔۱۹۱۳ء میں آپ عربی کی اعلی تعلیم کے حصول کے لئے مصر تشریف لے گئے کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد آپ بیروت اور عرب تشریف لے گئے جہاں پر نہایت قابل اساتذہ آپ کو میسر آ گئے۔معمولی تعلیم کے بعد سات ماہ تک ایک ترکی رسالہ میں بھی آپ کو کام کرنے کا موقعہ ملا۔پھر آپ بیت المقدس گئے صلاح الدین ایوبیہ کالج میں پروفیسر متعین ہو گئے۔جہاں پر آپ کو تاریخ ادیان انگریزی اور اردو پڑھانے کا موقع ملا کچھ عرصہ آپ سلطانیہ کالج کے وائس پرنسپل بھی رہے مئی ۱۹۱۹ء میں آپ واپس وطن تشریف لے آئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیر ہدایت ۱۹۲۰ء میں آپ صدر انجمن احمدیہ کے ساتھ منسلک ہو کر خدمت سلسلہ بجالانے لگے۔