جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 553
553 ۴۔حضرت مولوی غلام رسول را جیکی صاحب حضرت مولانا صاحب مرحوم ۱۸۷۷ء اور ۱۸۷۹ کے بین بین بھادوں کے موسم میں پیدا ہوئے تھے۔آپ موضع را جیکے ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کی پیدائش سے قبل خواب میں دیکھا تھا کہ گھر میں ایک چراغ روشن ہوا ہے۔جس کی روشی سے سارا گھر جگمگا اٹھا ہے۔آپ نے ۱۸۹۷ء میں بذریعہ خط بیعت کی اور اس کے دو سال بعد ۱۸۹۹ء میں قادیان حاضر ہوکر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔بیعت کے بعد علی الخصوص آپ کے علم و عرفان اور تعلق باللہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسی غیر معمولی برکت بخشی۔اور آپ کو روحانی نعماء سے اس قدر حصہ وافر عطا کیا کہ آپ آسمان روحانیت کا ایک درخشندہ ستارہ بن کر نصف صدی سے زائد سے بھٹکے ہوؤں کو راہ راست پر لانے کا وسیلہ بنے رہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرفان کے ساتھ ساتھ الہام اور رویاء و کشوف کی نعمت سے اس قدر نوازا تھا اور اپنے تقوی وطہارت اور زہد و ارتقاء کی وجہ سے آپ کی دعا ئیں جناب الہی میں اس قدر مقبول تھیں۔اور پھر خدمت سلسلہ کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے غیر معمولی رنگ میں عطا فرمائی تھی کہ بجاطور پر آپ انصار دین کے اس مقدس زمرہ میں شامل تھے جن کی خبر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس الہام میں دی تھی کہ ینصرک رجال نوحی اليهم من السماء۔اس لحاظ سے آپ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان تھے۔اور آپ کا وجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت قدسیہ اور فیض رسانی کے ثبوتوں میں سے ایک زندہ درخشندہ ثبوت تھا۔یوں تو آپ سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کے بعد شروع ہی سے تبلیغ حق میں بے انتہا سرگرم واقع ہوئے تھے اور آپ کی زندگی ہمہ وقت میدان تبلیغ میں ہی بسر ہو رہی تھی لیکن سلسلہ عالیہ احمدیہ کے با قاعدہ مبلغ کے طور پر آپ نے خلافت اولے کے زمانہ میں کام شروع کیا۔اور پھر قریباً نصف صدی تک ایسے ایسے عظیم الشان تبلیغی کارنامے سرانجام دیئے کہ جو رہتی دنیا تک یادگار رہیں گے۔اور آنے والی نسلیں آپ کی یاد پر محبت وعقیدت کے پھول نچھاور کرتی رہیں گی۔آپ نے اپنے تبلیغی تجارب اور زندگی میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعات کو اپنی معرکۃ الاراء تصنیف ”حیات قدسی میں محفوظ فرما دیا ہے۔آپ نے اپنی زندگی میں آریوں عیسائیوں اور غیر از جماعت علماء سے صدہا نہایت درجہ کامیاب مناظرے کئے۔ہزاروں کی تعداد میں معرکہ آلارا لیکچر دیئے۔اور اردو اور عربی میں نہایت اہم علمی موضوعات پر بے شمار قیمتی مضامین رقم فرمائے جو سلسلہ کے جرائد و رسائل اور اخبارات میں شائع ہوئے۔آپ کی عربی دانی نہ صرف جماعت میں بلکہ جماعت سے باہر بھی غیر از جماعت اہل علم حضرات کے نزدیک مسلم تھی۔آپ کے عربی قصائد منقوطہ وغیر منقوطہ نے