جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 552 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 552

552 حضرت مسیح موعود کے رویا اور الہام میں آپ کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کی شادی کے متعلق رویا میں بتلایا گیا کہ پیر منظور محمد صاحب موجود قاعدہ میسر نا القرآن کی صاحبزادی صالحہ بیگم صاحبہ سے آپ کا عقد ہو رہا ہے۔چنانچہ اس رڈیا کے مطابق ۱۹۰۶ء میں آپ کا نکاح مسجد اقصیٰ میں حضرت مولانا نورالدین صاحب نے پڑھا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی تشریف فرما تھے۔اس موقعہ پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ اسیح الثانی نے ایک نظم بھی لکھی جو کلام محمود میں درج ہے۔ایک الہام جو آپ کی بیماری میں دعا کرنے پر ہوا وہ یہ تھا:۔سَلامٌ قولاً مِنْ رَّبِّ الرَّحِيم آپ فرمایا کرتے تھے یہ الہام بھی میرے متعلق ہے ” خدا اس کو پنج بار ہلاکت سے بچائے گا۔“ چنانچہ آپ پر پانچ بڑی بیماریاں آئیں جن سے آپ کو اللہ نے وعدہ کے مطابق شفادی۔مقدس گھرانہ چونکہ آپ کو ایک لمبا عرصہ حضرت مسیح موعود کے الدار‘ میں رہنے کا شرف نصیب ہوا۔آپ کی پیدائش پر آپ کی والدہ آپ کو دودھ نہ پلا سکتی تھیں۔اس لئے بڑی بہن حضرت اماں جان نے آپ کو اپنا دودھ پلایا۔اس لئے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رضاعی بیٹے بھی تھے۔اس لئے اس مقدس گھرانے میں آپ حضرت مسیح موعود کے بیٹوں کی ہی طرح رہتے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت ذہانت عطا کی تھی۔حضرت خلیفتہ اسیح الاول نے ایک روز آپ کی ذہانت اور حذاقت کا ذکر کرے ہوئے فرمایا:۔کوئی قابل سے قابل آدمی بھی اگر قرآن کریم پر اعتراض کرے تو میں اسے دومنٹ میں خاموش کر سکتا ہوں۔مگر میر محمد الحق صاحب جب مجلس میں بیٹھے ہوں تو میں بہت احتیاط کرتا ہوں۔“ (سیرت حضرت ام المومنین جلد نمبر ۲ ص ۳۶۵) اس گھرانہ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ میر صاحب میں عشق رسول ﷺ علم قرآن وحدیث ، مسکینوں کی خبر گیری ، سادگی ، انکساری اور بے نفسی کے وصف بہت نمایاں تھے اپ مورخہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۴۴ء کو وفات پا کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔