جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 551 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 551

551 تمام فکروں سے فارغ البال کر کے صرف اپنی عبادت اور اپنی مخلوق کے لئے وقف فرما دے۔آمین ہم ہیں تیرے عاجز بندے۔(اساتذہ وطلباء مدرسہ احمدیہ قادیان) انداز تدریس جن لوگوں نے آپ سے پڑھا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ آپ کا انداز تدریس ایسا تھا۔کہ مشکل سے مشکل علوم اور مسائل کلاس میں ہی یاد ہو جاتے۔ایک بار حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب نے جامعہ احمدیہ کے ایک ہونہار طالب علم اور مشہور مناظر مولانا محمد سلیم صاحب سے پوچھا۔حضرت میر صاحب کیسا پڑھاتے ہیں تو بے ساختہ مولانا محمد سلیم نے کہا:۔و بس یوں سمجھ لیجئے کہ سبق میں جان ڈال دیتے ہیں۔“ قادر الکلام مقرر حضرت میر صاحب خود ایک قادر الکلام مقرر تھے۔وہ مد مقابل کو اس طرح گھیر تے تھے جس طرح شکاری شکار کوگھیرتا ہے۔شفیق استاد طلباء کے لئے آپ بمنزلہ شفیق باپ کے تھے۔وہ طلباء کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے۔ایک بار مدرسہ احمدیہ کا ایک طالب علم بیمار ہو گیا۔اس کے منہ پر بہت ورم تھا۔حضرت میر صاحب اپنے ہاتھ میں دودھ کا پیالہ اور اس کے لئے رس لے کر آئے۔سردیوں میں خیال رکھتے کہ طلباء کے پاس سردی سے بچاؤ کے لئے مناسب انتظام ہے یا نہیں۔آپ کے عہد میں کوئی غریب طالب علم اس لئے تعلیم سے محروم نہ ہو سکتا تھا کہ فیس ادا نہیں کر سکتا یا کتابیں خرید نہیں سکتا۔کئی غریب طالب علموں کو اپنے گھر میں اپنی اولاد کی طرح رکھ کر پڑھایا۔اور آج وہ سلسلہ کی اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔مولوی عبد اللطیف صاحب ستکو ہی سیکرٹری اصلاح و ارشاد جماعت لاہور نے مجھے بتلایا کہ ایک بار مالی تنگی کی وجہ سے میں مدرسہ احمدیہ سے چلا گیا۔حضرت میر صاحب کو علم ہوا تو میرے گاؤں ست کو ہہ میں آدمی بھیجا کہ اسے کہو وہ واپس آ جائے میں سارا انتظام کروں گا۔