جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 547
547 کی کیا تعریف کر سکتا ہے۔اتنے مسلسل لمبے عرصہ تک اور پورے استقلال و تن دہی سے دینی خدمات بجالانا حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ نے جو شاندار کام کیا ہے وہ رہتی دنیا تک تاریخ احمدیت میں زریں حرفوں میں نقش رہے گا۔خلافت ثانیہ کی ترقیات اور خلافت ثانیہ کے دشمنوں کی ناکامی و نامرادی کے ایمان افروز نظاروں کے دیکھنے کے بعد حضرت مولوی صاحب کا وصال ہوا ہے۔بیسیوں مبلغین سلسلہ نے ابتدائی ایام سے حضرت مولوی صاحب مرحوم سے شرف تلمذ حاصل کیا۔اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بارے میں ہر طرح سے خوشی عطا فرمائی۔آپ کے تفسیری حقائق و معارف اپنے اندر ایک خاص رنگ رکھتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کو امام ہمام سید نا حضرت مصلح موعود سے جو عشق و محبت تھی۔جو رابطہ قلبی حاصل تھا۔وہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔حضور کے ہر ارشاد کی حرفی تعلیم کو آپ لازمی جانتے تھے۔اور یہی روح اپنے حلقہ احباب میں پیدا کرتے تھے۔عشق میں چوں چراں کا سوال ہی نہیں ہوتا۔اور یہ نظارہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کی زندگی کا طرہ امتیاز ہے۔سفر و حضر میں اپنے محبوب آقا کی مجلس میں شرکت اور آپ کے دلنواز کلام کا سننا آپ کا اہم ترین مقصد ہوتا تھا۔اور بڑھاپے کے باوجود راہ خدا میں قربانی کے لحاظ سے جوانوں سے ہر رنگ میں آگے تھے۔اخلاص اور تقویٰ کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں۔جفاکشی اور محنت میں بھی آپ جوانوں سے بڑھ کر تھے۔آخری دنوں تک مطالعہ فرماتے رہے۔اور تدریس کا شغل جاری رکھا۔آپ نے مورخہ ۴ جون ۱۹۴۷ء کو فات پائی۔۳۔حضرت میر محمدالحق صاحب حضرت میر محمد اسحق صاحب ۱۸۹۰ء میں لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔جہاں آپ کے والد محترم میر ناصر نواب صاحب ملازم تھے۔آپ کی والدہ محترمہ کا نام سید بیگم صاحبہ تھا۔زندہ رہنے والے ایک بہن اور دو بھائیوں سے آپ چھوٹے تھے۔اللہ تعالیٰ نے تینوں میں سے پہلے صرف چون برس کی عمر میں انہیں اپنے پاس بلا لیا۔تاہم آپ نے عشق رسول علم ، سیرت حسن سلوک اور خدمت سلسلہ کی وہ حسین یادیں چھوڑی ہیں جنہوں نے انہیں زندہ جاوید کر دیا۔کہتے ہیں کہ مشہور صوفی بزرگ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمۃ کی لحد پر کھڑے ہو کر ایک مجذوب نے یہ شعر پڑھے اور پھر اس کے بعد کسی نے اس مجذوب کو نہیں دیکھا۔وہ شعر یہ تھے :۔وا اسفا على فراق قوم هم المصابيح والحصون