جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 19 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 19

19 دعویٰ موعود اقوام عالم مذکورہ حقائق اور شہادتوں سے عیاں ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب کے پیروکار سبھی اپنی اپنی مقدس کتابوں کی پیشگوئیوں کے مطابق ایک مصلح کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔یہود کو بھی ایک مسیح کی انتظار تھی جس نے دور آخر میں ظاہر ہونا تھا۔مسلمان بھی ایک امام مہدی کی راہ دیکھ رہے تھے۔ہند و کرشن کی آمد کے منتظر تھے اور بدھ مت کے ماننے والے بڑھا کے نئے روپ میں ظاہر ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔لیکن خدائی نوشتوں کے مطابق مقدر کیا تھا کہ تمام ملتوں کا موعود ایک ہی وجود کی صورت میں ظاہر ہو جو حضرت خاتم النبین ﷺ کا امتی اور پیرو کار ہو جس کا مقصد بعثت تمام بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کے آخری دین اور مکمل ضابطہ حیات اسلام کے جھنڈے تلے جمع کرنا تھا۔اس تمام صورت حال کے پیش نظر اب ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ موعودا قوام عالم کون ہے اور اس کے مشن کو آگے بڑھانے والی جماعت کونسی ہے؟ جبکہ زمانہ بزبان حال پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ : ہم مریضوں کی ہے تمہی نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے بالآ خر زبان خلق نقارہ خدا بن گئی اور رحمت خداوندی نے جوش مارا اور ایک ہادی برحق کو اصلاح خلق کے لئے مامور کر دیا گیا اور ہندوستان کی ایک گمنام بستی سے یہ آواز بلند ہوئی:۔میں وہ پانی ہوں جو اُترا آسماں سے وقت پر میں ہوں وہ نُورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار کیوں عجب کرتے ہو گر میں آ گیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا وم بھرتی ہے بادِ بہار پھر فرمایا وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا یہ آواز خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ ، عشق رسول میں سرشار اور بنی نوع انسان کے ہمدرد