جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 503 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 503

503 ہیں اس کے آگے ہمارے استری سماجوں کا کام بالکل بے حقیقت ہے۔مصباح کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ احمدی عورتیں ہندوستان ، افریقہ ، عرب، مصر، یورپ اور امریکہ میں کس طرح اور کس قدر کام کر رہی ہیں۔ان کا مذہبی احساس اس قدر قابل تعریف ہے کہ ہم کو شرم آنی چاہئے۔چند سال ہوئے ان کے امیر نے ایک مسجد کے لئے پچاس ہزار روپے کی اپیل کی اور یہ قید لگا دی کہ یہ رقم صرف عورتوں کے چندے سے ہی پوری کی جائے چنانچہ پندرہ روز کی قلیل مدت میں ان عورتوں نے پچاس ہزار کی بجائے پچپن ہزار روپیہ جمع کر دیا۔“ عورتوں کا یہ اخبار جو ۱۵ دسمبر ۱۹۲۶ء کو جاری ہوا ، شروع ۱۹۴۷ء تک جاری رہا۔شروع میں پندرہ روزہ تھا بعد میں ماہوار ہو گیا۔اس کے ایڈیٹر جناب قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل، جناب مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر، جناب خواجہ غلام نبی صاحب، جناب رحمت اللہ صاحب شاکر وغیرہ رہے اور جناب نذیر احمد صاحب افریقی صرف ۱۹۳۶ء میں۔لجنہ اماءاللہ کی نگرانی میں نیا دور ۱۹۴۷ء کے شروع میں لجنہ اماءاللہ نے جس کا کام اب خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت وسیع ہو چکا تھا یہ فیصلہ کیا کہ لجنہ اماءاللہ اسپر چہ کو اپنی نگرانی میں لے لے اور اس کا تمام خرج خود برداشت کرے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے اجازت لے کر لجنہ مرکزیہ نے اس کا اعلان کر دیا۔ابھی تین پرچے شائع ہوئے تھے کہ ملکی تقسیم ہونے کے بعد قادیان سے ہجرت کرنی پڑی۔گولجنہ اماء اللہ کا دفتر تو عارضی طور پر رتن باغ لاہور میں قائم کر دیا گیا مگر مصباح کے احیاء کا معاملہ کچھ عرصہ کے لئے ملتوی رہا۔ربوہ سے مصباح کا اجراء آخر ۱۹۵۰ء میں دوبارہ مصباح ربوہ سے جاری ہوا جو اپنی پوری شان سے الحمد للہ جاری ہے اور عورتوں کا واحد تر جمان ہے۔اس کی پہلی مدیرہ عزیزہ امتہ اللہ خورشید صاحبہ بنت جناب مولوی ابو العطاء صاحب تھیں جنہوں نے بڑی محنت اس رسالہ پر کی۔باوجود کمزور صحت کے بڑی ذمہ داری سے اس رسالہ کو جاری رکھا۔ان کی وفات کے بعد جو ۲۶ ستمبر ۱۹۶۰ء کو ہوئی امتہ الرشید شوکت صاحبہ اہلیہ ملک سیف الرحمن صاحب اس کی مدیرہ نامزد ہوئیں جو لمبا عرصہ اس کی ادارت کے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔جماعت کے جلسہ سالانہ ۱۹۲۶ء کے موقع پر خان صاحب مولوی فرزند علی خان صاحب نے جو خطبہ استقبالیہ پڑھا اس میں بھی آپ نے عورتوں کے رسالہ مصباح کا ذکر فر مایا اور کہا:۔