جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 500 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 500

500 عید کا تحفہ محتر مہ مبارکہ بیگم صاحبہ نارووال کو الفضل کے مطالعہ کا اتنا شوق تھا کہ شادی سے پہلے کم آمدنی کی وجہ سے الفضل دوسرے احمدی گھروں سے منگوا کر پڑھتی تھیں۔جب آپ کا نکاح ہوا اور شوہر نے پہلی عید پر پسند کا تحفہ پوچھا تو انہوں نے الفضل لگوانے کی فرمائش کی۔ان کے خاوند بھی نہایت عالم اور علم دوست تھے۔انہوں نے آپ کے شوق کو ہوا دی اور ہمیشہ مطالعے کے لئے لٹریچر مہیا کیا۔(ماہنامہ مصباح مارچ ۲۰۰۵ ء ص ۴۸) دین سے لگاؤ کا ثبوت مکرم رشید الدین صاحب اپنے والد چوہدری جلال الدین صاحب کے متعلق لکھتے ہیں۔و نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق رشتہ طے کرتے وقت دینی پہلو کو ترجیح دیتے۔ہمارے بہنوئی چوہدری محمد اعظم صاحب ( سابق ایم پی اے ) سمبڑیال کی طرف سے جب پیغام آیا تو ان کی دعوت پر محترم والد صاحب ان کے گاؤں چک ۱۲۱ شمالی ضلع سرگودھا گئے ( ان کی ان دنوں رہائش وہاں تھی۔) فرماتے تھے کہ جب میں نے دیکھا کہ روز نامہ الفضل ان کے نام آ رہا ہے تو میں نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ یہ رشتہ ضرور کرنا ہے کیونکہ یہ دین اور سلسلہ احمدیہ سے لگاؤ کا ایک واضح ثبوت تھا۔“ (میرے والدص ۵۸ - استفاده از روزنامه الفضل مورخه ۲۸ جون ۲۰۰۸ء) آجکل روز نامه الفضل ربوہ جماعتی لحاظ سے انتہائی حساس حالات میں مکرم عبدالسمیع خان صاحب (ایڈیٹر روز نامہ الفضل ) بڑی حکمت عملی اور کامیابی سے چلا رہے ہیں۔فجزاه الله احسن الجزاء الله الله تعالی آپ کی تائید و نصرت فرمائے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔آمین ) الفضل انٹرنیشنل اس ہفت روزہ اخبار کا پہلا شمارہ کے جنوری ۱۹۹۴ء کو لندن سے زیر ادارت چوہدری رشید احمد صاحب منظر عام پر آیا۔بعد ازاں اس کے ایڈیٹر مکرم نصیر احمد قمر صاحب مقرر ہوئے۔جن کی زیر ادارت یہ معیاری اخبار ترقی کے زینوں پر شب و روز رواں دواں ہے۔اس اخبار کو یہ خاص اہمیت حاصل ہے کہ اس میں امام