جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 497
497 دل سے یہ صدا اٹھ رہی ہے کہ مرکز سلسلہ کا یہ پودا جو گویا اب اپنے بلوغ کو پہنچ رہا ہے۔بیش از بیش سُرعت کے ساتھ بڑھے اور پھیلے اور پھولے اور اس کے پھلوں سے لوگ زیادہ سے زیادہ مستفیض ہوں۔مگر اس تبدیلی کے نتیجہ میں جہاں جماعت کی یہ ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنے اس مرکزی اخبار کی اشاعت کی توسیع میں پہلے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور مرکز کی ان صحافتی تاروں کو اور بھی زیادہ وسیع اور مضبوط کر دے جو اسے افراد جماعت کے ساتھ باندھ رہی ہیں۔وہاں الفضل کے عملہ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ نہ صرف الفضل کو زیادہ سے زیادہ مفید اور دلکش بنائے بلکہ لاہور سے ربوہ کی طرف منتقل ہونے کے نتیجہ میں جو بعض مادی وسائل ( کی ) ترقی میں امکانی کمی آسکتی ہے اسے بیش از بیش توجہ اور کوشش کے ذریعہ کم نہ ہونے دے۔اس زمانہ میں پریس کی اہمیت اور اس کے اثر کی وسعت ظاہر وعیاں ہے۔سواب یہ جماعت اور عملہ الفضل کا مشتر کہ فرض ہے کہ وہ الفضل کو ہر جہت سے ترقی دے کر اسے ایک الہی جماعت کے شایان شان بنائے۔وکان الله معنا اجمعين (خاکسار مرزا بشیر احمد ر بوه ۵۴-۱۲-۳۱) ( الفضل یکم جنوری ۱۹۵۵ء) الفضل ایک چراغ ہے ایڈیٹر روز نامہ الفضل نے ۲۹ دسمبر ۱۹۱۴ء کو الفضل کی خدمات اور توسیع اشاعت کی تحریک کرتے ہوئے اپنے اداریہ میں لکھا:۔آپ کا الفضل ایک چراغ ہے اور چراغ بھی وہ جس کو خود مسیح موعود نے ایک رویا میں ملاحظہ فرمایا اور دیکھا کہ چند آدمی اندھیرے میں جارہے ہیں اور قریب ہے کہ وہ آگے آنے والے گڑھوں میں گر جائیں۔اس وقت محمود ( ہمارے موجودہ امام الفضل کے سابق ایڈیٹر دوڑ کر ایک لیمپ اٹھالائے اور ان کو راستہ دکھایا۔پس یاد رکھو کہ تاریکی کے وقت ہلاکت کا راستہ اختیار کرنے والوں کو جس ہاتھ نے روشنی دکھائی وہ الفضل کے ایڈ یٹ کا ہاتھ تھا اور جو لیمپ اس ہاتھ میں دیا گیا وہ یہی آپ کا الفضل تھا کیونکہ کہا گیا تھا کہ فضل اس کے ساتھ آئے گا پھر یہی لیمپ تھا جس نے نورالدین اعظم کی زندگی کا آفتاب غروب ہونے پر عین عالم تاریکی میں تذبذب اور غلطی خوردہ قوم کونور ہدایت کی روشنی دکھا کر سلامتی اور امن کے راستہ پر ڈالا یعنی یوں کہا جائے یہ الفضل ہی تھا جس نے خلافت کے حریفوں کے تمام وارد کئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے فضل عمر کے ہاتھ پر حبل اللہ پکڑنے والوں کی راہنمائی کی۔اس لئے ہم پھر کہتے ہیں کہ الفضل اس فضل کا ہر اول ، ان برکات کا پیش خیمہ ہے جو موجودہ خلافت