جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 496
496 ربوہ سے روز نامہ الفضل کی اشاعت قیام پاکستان کے بعد الفضل لاہور سے شائع ہوتا رہا جلسہ سالانہ ۱۹۵۴ء کے ایام میں لاہور سے ربوہ منتقل کر دیا گیا اور ا۳ دسمبر ۱۹۵۴ء سے ضیاء الاسلام پریس ربوہ میں چھپنے لگا۔اس طرح الفضل قریباً سات برس کے بعد دوبارہ مرکز احمدیت سے نکلنا شروع ہوا۔جس پر احباب جماعت نے بہت خوشی اور مسرت کا اظہار کیا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کے نام خصوصی پیغامات دیئے۔حضرت مصلح موعود کے پیغام کا متن یہ تھا:۔حضرت مصلح موعود کا پیغام آج ربوہ سے اخبار شائع ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کاربوہ سے نکلنا مبارک کرے اور جب تک یہاں سے نکلنا مقدر ہے۔اس کو اپنے صحیح فرائض ادا کرنے کی توفیق دے۔اخبار قوم کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہے۔اسے اخبار کو زندہ رکھنا چاہئے اور اپنے اخبار کے مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان امور پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔“ خاکسار مرز امحمود احمد (الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۵۴ء) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ”الفضل کا دور جدید “ کے عنوان سے لکھا:۔لحمد لله ثم لحمد للہ کہ ایک لمبے وقفہ کے بعد الفضل پھر مرکز سلسلہ سے نکلنا شروع ہو گیا ہے غالباً تر تالیس سال کا عرصہ گزرا کہ سلسلہ احمدیہ کے مرکز قادیان سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے ہاتھ سے الفضل کا اجراء ہوا۔یہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا زمانہ تھا۔اس کے بعد ہمارا یہ مرکزی اخبار خدا کے فضل سے مسلسل ترقی کرتا گیا۔حتی کہ ملکی تقسیم کے دھکے کے نتیجہ میں الفضل کو بھی جماعت کی اکثریت کے ساتھ قادیان سے نکلنا پڑا۔جس کے بعد حالات کی مجبوری کے ماتحت وہ لاہور سے شائع ہوتا رہا۔یہ گویا اس کے لئے برزخ کا زمانہ تھا اب سات سال کے درمیانی زمانہ کے بعد الفضل پھر ربوہ یعنی مرکز سلسلہ نمبر 2 سے نکلنا شروع ہوا ہے۔الفضل کے اس نئے دور میں تمام جماعت کی دعائیں اس کے ساتھ ہیں اور ہر مخلص احمدی کے