جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 495
495 الفضل ۱۹۱۷ء تا ۱۹۳۴ء جون ۱۹۱۴ء سے جون ۱۹۲۴ ء تک پورے دس سال الفضل 2018 پر چھپتا رہا اور جنوری ۱۹۱۶ء سے جون ۱۹۲۴ء تک ہفتہ میں دو بار شائع ہوتا رہا۔۱۹۲۰ء میں جبکہ ہفتہ میں دو بار شائع ہو رہا تھا اسے روزانہ کرنے کی تحریک کی گئی۔کئی مراسلات اس کے متعلق شائع کئے گئے۔جولائی ۱۹۲۴ء میں خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ الفضل کو اس سائز پر شائع کیا جائے جس پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جاری کیا تھا اور جب حضور ولایت تشریف لے گئے تو اس۳ جولائی ۱۹۲۴ء سے ہفتہ میں تین بار شائع ہونے لگا۔جو ۸ دسمبر ۱۹۲۵ء تک جاری رہا اور ۱۱ دسمبر ۱۹۲۵ء سے دو بار کر دیا گیا۔آریوں کی طرف سے دل آزار کتاب کی اشاعت اور اس کے متعلق جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ کی وجہ سے جب اہل حق کے جذبات کو بے حد ٹھیس لگی اور ان میں سخت بے چینی پیدا ہوئی تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس کے اندمال کی طرف توجہ فرمائی اور ان ایام میں کچھ عرصہ کے لئے الفضل روزانہ کر دیا گیا۔۱۹۲۹ء میں پھر ”الفضل“ کو مستقل روزانہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔۸ نومبر ۱۹۲۹ء سے حجم میں چار صفحہ کے مزید اضافہ کے ساتھ ۱۶ صفحہ کا شائع ہونے لگا۔۱۵ را پریل ۱۹۳۰ء کو ہفتہ میں چار بار شائع ہونے لگا۔پھر ۳۰ مئی سے ہفتہ میں تین بار اور ے مارچ ۱۹۳۵ ء تک سہ روزہ ہی رہا۔و الفضل‘۱۹۳۵ء تا ۱۹۴۷ء ۵ فروری ۱۹۳۵ء کو الفضل نے ترقی کی طرف ایک قدم بڑھایا۔یعنی اس کے روزانہ کرنے کا اعلان کیا گیا۔لیکن چونکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب گورداسپور نے اجازت دینے میں غیر معمولی تاخیر کی۔اس لئے ۸ مارچ ۱۹۳۵ء سے ”الفضل روزانہ کیا جاسکا۔روزانہ الفضل‘ کا پہلا پرچہ ۸ مارچ کو چار صفحہ کا شائع ہوا۔اس وقت تجویز یہ تھی کہ سہ روزہ الفضل، حسب معمول شائع ہوتار ہے اور تین دن چار صفحہ کا شائع ہو۔لیکن چند ہی روز کے بعد یعنی ۲۶ مارچ ۱۹۳۵ء سے چار صفحہ کا پرچہ مستقل طور پر آٹھ صفحہ کا کر دیا گیا۔چنانچہ اس وقت سے لے کر ۱۹۴۷ء تک ”الفضل روز نامہ کی حیثیت سے شائع ہوتا رہا۔۱۹۴۷ء میں جب قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرنا پڑی اور جماعت احمدیہ کو بھی اپنا مرکز قادیان چھوڑنا پڑا تو الفضل قادیان کی بجائے لاہور سے شائع ہونا شروع ہوا۔