جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 493 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 493

493 ہے۔میرے حقیقی مالک، میرے متولی تجھے علم ہے کہ محض تیری رضا حاصل کرنے کے لئے اور تیرے دین کی خدمت کے ارادہ سے یہ کام میں نے شروع کیا ہے۔تیرے پاک رسول کے نام کے بلند کرنے اور تیرے مامور کی سچائیوں کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے یہ ہمت میں نے کی ہے تو میرے ارادوں کا واقف ہے۔میری پوشیدہ باتوں کا راز دار ہے۔میں تجھی سے اور تیرے ہی پیارے چہرہ کا واسطہ دے کر نصرت و مددکا امیدوار ہوں“۔پھر حضور نے لکھا:۔”اے میرے مولا اس مشت خاک نے ایک کام شروع کیا ہے اس میں برکت دے اور اسے کامیاب کر میں اندھیروں میں ہوں تو آپ ہی راستہ دکھا۔لوگوں کے دلوں میں الہام کر کہ وہ الفضل‘ سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے فیض کو لاکھوں نہیں کروڑوں تک وسیع کر اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی اسے مفید بنا“۔الفضل ۱۸ جون ۱۹۱۳ء) الفضل ۱۹۱۳ء۔۱۹۱۴ء میں الفضل کا پہلا پرچہ 2020 کے 4 صفحات پر نکلا اور ہفتہ وار شائع ہونے لگا۔دسمبر ۱۹۱۳ء کے سالانہ جلسہ پر تین دن یعنی ۲۶، ۲۷، ۲۸ دسمبر اس کا روزانہ لوکل ایڈیشن شائع ہوا اور ۲۱ مارچ ۱۹۱۴ء تک الفضل کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ایڈیٹر ہونے کا فخر حاصل رہا۔چنانچہ الفضل کے ٹائٹل پیج پر حضور کا اسم گرامی بحیثیت ایڈیٹرشائع ہوتارہا اور یکم دسمبر ۱۹۱۴ ء تک کے پرچہ پر پروپرائٹر پبلشر اور پرنٹر کے طور پر بھی حضور ہی کا نام لکھا جاتا رہا مگر جب خدا نے اپنی خاص مصلحتوں کے ماتحت آپ کو خلافت کے نہایت بلند اور عالی مرتبہ پر متمکن فرما کر آپ کا حلقہ عمل نہایت وسیع کر دیا اور آپ کی ذمہ داریوں میں بے حد اضافہ فرما دیا تو ۲۱ مارچ ۱۹۱۴ ء سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا نام بطور ایڈیٹر شائع ہونے لگا اور ۳ دسمبر ۱۹۱۴ ء کے پرچہ سے لفضل“ کا پرنٹ و پبلشر بنے کی سعادت حضور نے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو بخشی۔جو سوائے اس وقفہ کے جبکہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ساتھ ولایت گئے خدا تعالیٰ کے فضل سے تقسیم ہند تک اس منصب پر سرفراز رہے۔چونکہ الفضل کو بہت بڑے اخراجات کا متحمل ہونا پڑا تھا اور اس کے اخراجات کے مقابلہ میں آمد بہت کم تھی۔اس لئے ۱۷ جون ۱۹۱۴ء میں الفضل کی دوسری جلد شروع ہوئی تو اخبار کا سائز: 2020 کی بجائے کسی قدر کم یعنی 2018 کر دیا گیا۔اس جلد کے ۲۷ اگست تک کے پرچوں پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا نام بطور 26 4 4