جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 490 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 490

490 خدا تعالیٰ کی تازہ وحی تازہ بشارتوں سے بھری ہوئی نازل ہو رہی ہے اور خدا تعالیٰ نے متواتر ظاہر کر دیا کہ واقعی اور حقیقی طور پر وہی شخص اس جماعت میں داخل سمجھا جائے گا جو اپنے عزیز مال کو اس راہ میں خرچ کرے گا۔“ پھر آگے چل کر فرماتے ہیں:۔اگر اس رسالہ کی اعانت کے لئے اس جماعت میں دس ہزار خریدار اردو یا انگریزی کا پیدا ہو جائے تو رسالہ خاطر خواہ چل نکلے گا۔اور میری دانست میں اگر بیعت کرنے والے اپنی بیعت کی حقیقت پر قائم رہ کر اس بارے میں کوشش کریں تو اس قدر تعداد کچھ بہت نہیں بلکہ جماعت موجودہ کی تعداد بہت کم ہے۔سواے جماعت کے سچے مخلصوا خداوند تمہارے ساتھ ہو۔تم اس کام کے لئے ہمت کرو۔خدا تعالیٰ آپ تمہارے دلوں میں القاء کرے کہ یہی وہ وقت ہمت کا ہے۔“ ( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد نمبر ۲ نیا ایڈیشن ص ۲۰۳ تا ۲۰۶) رسالہ " تشحید الاذہان کا اجراء یکم مارچ ۱۹۰۶ء سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ادارت میں ایک سہ ماہی رسالہ کا اجراء ہوا جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انجمن تشخیز الاذہان ہی کے نام پر تشخیز الاذہان رکھا۔اس رسالہ کے مندرجہ ذیل اغراض و مقاصد تھے۔ا۔اسلام کا نورانی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا۔۲۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ نصائح جو گھر میں کہے جاتے ہیں شائع کرنا۔۳۔اسلام اور خصوصاً سلسلہ احمدیہ پر اعتراضات کا تہذیب کے ساتھ ردکرنا۔۴۔مشاہیر اسلام کی سوانح عمریاں درج کرنا۔۵۔مسائل شرعیہ کا اندراج تا ناواقف لوگ واقفیت حاصل کریں۔۶۔اس رسالہ سے کوئی مالی فائدہ ہرگز ہرگز مقصود نہیں ہوگا اور جو آمد بھی ہوگی اشاعت اسلام میں خرچ کی جائے گی۔اپنوں اور بیگانوں کی طرف سے پُر جوش خیر مقدم ریویو آف ریلیجنز کی طرح اس رسالہ کا بھی اپنوں اور بیگانوں کی طرف سے گرم جوشی سے خیر مقدم کیا گیا۔چنانچہ۔ا۔مولوی محمد علی صاحب ایڈیٹر ریویو نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔