جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 488 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 488

488 اور قبل ازیں جو اپنے تئیں تنہا سمجھے بیٹھے تھے اب دلائل و براہین کی تازہ کمک پہنچنے پر ان کے حوصلے ریکا یک بلند ہو گئے اور انہوں نے اشاعت اسلام کی مہم تیز تر کر دی۔اس حقیقت کا اندازہ لگانے کے لئے ذیل میں چند نو مسلموں کی آراء درج کی جاتی ہیں۔ا۔اخبار "کریسنٹ اور پول) انگلستان کے مشہور اسلامی پر چہ نے اس رسالہ پر ریویو کرتے ہوئے ۱۳ ستمبر ۱۹۰۳ء کے ایشوع میں لکھا۔ریویو آف ریچن کا پرچہ دلچسپ مضامین سے بھرا ہوا ہے۔ہمارے نبی ﷺ کی ذات پاک کے متعلق جو جاہل عیسائی الزام لگایا کرتے ہیں ان کی تردید میں ایک نہایت ہی فاضلانہ مضمون اس میں لکھا گیا ہے جس سے عمدہ مضمون آج تک ہماری نظر سے نہیں گزرا۔( ترجمہ ) ۲۔امریکہ کے پہلے نو مسلم محمد الگزنڈ رسل وب (امریکہ ) نے لکھا:۔میں یقین کرتا ہوں کہ یہ رسالہ دنیا میں مذہبی خیال کو ایک خاص صورت دینے کے لئے ایک نہایت زبر دست طاقت ہوگی اور یہ بھی یقین کرتا ہوں کہ آخر کار یہی رسالہ ان روکوں کو دور کرنے کا ذریعہ ہو گا جو جہالت سے سچائی کی راہ پر ڈالی گئی ہیں۔( ترجمہ ) ۳ شیخ عبد اللہ کوئیم ( لور پول ) نے لکھا:۔میں ریویو آف ریلیجنز کو پڑھ کر بہت ہی خوش ہوتا ہوں اور اس مقدس مذہب کی تائید میں اسے ایک نہایت ہی قیمتی تحریر سمجھتا ہوں۔‘ ( ترجمہ )۔دوسرا اثر مغربی ملکوں پر یہ ہوا کہ وہاں چوٹی کے غیر مسلم مفکروں اور ادیبوں تک اسلام کا پیغام پہنچا۔ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا اور وہ اسلامی نظریات کے قریب آگئے اور انہیں اسلام کی صحیح تصویر سمجھنے میں کافی مدد ملی۔مغرب میں اسلام کے لئے جو ایک شاندار فضا بدلی ہے اس میں اس رسالے کا بھی نمایاں حصہ ہے۔چنانچہ مسٹر اے۔آر۔وب نے امریکہ سے لکھا:۔اس رسالہ کے مضامین میں روحانی صداقتوں کی نہایت پر حکمت اور روشن تفسیر ہے۔“ ۵۔کونٹ ٹالٹسائے نے روس سے لکھا:۔66 اس رسالہ کے خیالات بڑے وزنی اور سچے ہیں۔“ - پروفیسر ہالٹما ایڈیٹر انسائیکلو پیڈ آف اسلام نے لکھا:۔وو یہ رسالہ از حد دلچسپ ہے۔“۔ریویو آف ریویوز لندن نے لکھا:۔یورپ اور امریکہ کے وہ لوگ جو محمد (ﷺ) کے مذہب میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کو چاہئے کہ