جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 440 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 440

440 چندہ سالانہ اجتماع کم از کم دو روپے سالانہ فی ممبر ہے۔چندہ ممبری ناصرات ہر بچی کے لئے ۵۰ پیسے ماہوار مقرر ہے۔جبکہ چندہ ناصرات اجتماع ۵۰ پیسے فی ممبر سالانہ ہے۔چندہ وقف جدید ہر بچی کے لئے ایک روپیہ ماہوار مقرر ہے۔بمطابق لائحہ عمل لجنہ اماءاللہ پاکستان ص ۱۸) خدام الاحمدیہ کا قیام حضرت مصلح موعود نے اللہ تعالیٰ کی مشیت خاص کے تحت غلبہ دین حق کے لئے جن عظیم الشان تنظیموں کی بنیاد رکھی۔ان میں سے نہایت اہم اور مستقبل کے اعتبار سے نہایت دور رس نتائج کی حامل تنظیم مجلس ”خدام الاحمدیہ ہے۔جس کا قیام ۳۱ / جنوری ۱۹۳۸ء کو ہوا۔حضور کو اپنے عہد خلافت کی ابتداء سے ہی احمدی نوجوانوں کی تنظیم و تربیت کی طرف ہمیشہ توجہ رہی۔کیونکہ قیامت تک اعلائے کلمتہ اللہ اور غلبہ دین حق کے لئے ضروری تھا کہ ہر نسل پہلی نسل کی پوری قائمقام ہو اور جانی و مالی قربانیوں میں پہلوں کے نقش قدم پر چلنے والی ہو۔اور ہر زمانے میں جماعت احمدیہ کے نوجوانوں کی تربیت اس طور پر ہوتی ہے کہ وہ دین حق کا جھنڈا ابلند رکھیں۔حضرت مصلح موعود نے اس مقصد کے لئے وقتا فوقتا مختلف انجمنیں قائم فرما ئیں مگر ان سب تحریکوں کی جملہ خصوصیات مکمل طور پر مجلس خدام الاحمدیہ کی صورت میں جلوہ گر ہوئیں اور حضرت صاحب کی براہ راست قیادت غیر معمولی توجہ اور حیرت انگیز قوت قدسی کی بدولت مجلس خدام الاحمدیہ میں تربیت پانے کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کو ایسے مخلص ایثار پیشہ دردمند دل رکھنے والے انتظامی قابلیتیں اور صلاحیتیں رکھنے والے مدبر دماغ میسر آگئے جنہوں نے آگے چل کر سلسلہ احمدیہ کی عظیم ذمہ داریوں کا بوجھ نہایت خوش اسلوبی اور کامیابی سے اپنے کندھوں پر اٹھایا اور آئندہ بھی ہم خدا سے یہی امید رکھتے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ ہر نسل میں ایسے لوگ پیدا کرتا چلا جائے گا۔اس تنظیم کے پروگرام میں منجملہ دیگر امور کے مندرجہ ذیل باتیں زیادہ نمایاں ہیں:۔اول :۔خدمت خلق۔یعنی خدام الاحمدیہ کے ہرمبر کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو صحیح معنوں میں ملک وقوم کا خادم بنائے۔اور خادم بن کر رہے۔اور اس کا فرض یہ مقرر کیا گیا ہے۔کہ وہ اپنے ممبروں میں خدمت خلق کے جذ بہ کو ترقی دے۔دوم :۔لوگوں کے دلوں میں اس احساس کو پیدا کرنا اور ان میں اس کی عملی تربیت دینا کہ کوئی کام بھی