جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 437
437 عورتوں کا ایمان مردوں کی نسبت زیادہ اور مخلص اور مربوط ہوتا ہے۔عورتیں مذہبی جوش کو مردوں کی نسبت زیادہ محفوظ رکھتی ہیں۔لجنہ اماءاللہ کی جس جس قدر کار گزاریاں اخبار میں چھپ رہی ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے۔کہ احمدیوں کی آئندہ نسلیں موجودہ کی نسبت زیادہ مضبوط اور پُر جوش ہوں گی۔اور احمدی عورتیں اس چمن کو تازہ دم رکھیں گی جس کا مرور زمانہ کے باعث اپنی قدرتی شادابی اور سرسبزی سے محروم ہونالازمی تھا۔“ اخبار تنظیم امرتسر ۲۸ اکتوبر۱۹۲۶ء ص ۶۵ بحوالہ تاثرات قادیان ص۱۷۳- از مکرم ملک فضل حسین صاحب طبع اول) لجنہ اماءاللہ کے زیر انتظام ایک ماہنامہ رسالہ مصباح بھی شائع ہورہا ہے جس میں لجنہ اور ناصرات الاحمد یہ کی تعلیم و تربیت سے متعلق علمی اور تربیتی مضامین لکھے جاتے ہیں۔اس رسالہ کے ذریعہ لجنہ اور ناصرات کو اپنی قلمی صلاحیتوں کو چمکانے کا موقع ملتا ہے۔اس رسالہ کو پڑھ کر ایک آریہ سماجی اخبار ” تیج کے ایڈیٹر نے لکھا:۔” میرے خیال میں یہ اخبار اس قابل ہے کہ ہر ایک آریہ سماجی اس کو دیکھے۔اس کے مطالعہ سے انہیں احمدی عورتوں کے متعلق یہ غلط فہمی کہ وہ پردہ کے اندر بند رہتی ہیں اس لئے کچھ کام نہیں کر سکتیں فی الفور دور ہو جائے گی۔اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ عورتیں باوجود اسلام کے ( نعوذ باللہ۔ناقل ) ظالمانہ حکم کے طفیل پردہ کی قید میں رہنے کے کس قدر کام کر رہی ہیں۔اور ان میں مذہبی اخلاص اور تبلیغی جوش کس قدر ہے۔ہم استری سماج قائم کر کے مطمئن ہو چکے ہیں۔لیکن ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ احمدی عورتوں کی ہر جگہ با قاعدہ انجمنیں ہیں اور جو وہ کام کر رہی ہیں اس کے آگے ہماری استری سماجوں کا کام بالکل بے حقیقت ہے۔مصباح کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ احمدی خواتین ہندوستان، افریقہ ، عرب مصر، یورپ اور امریکہ میں کس طرح اور کس قدر کام کر رہی ہیں۔ان کا مذہبی احساس اس قدر قابل تعریف ہے کہ ہم کو شرم آنی چاہئے۔چند سال ہوئے ان کے امیر نے ایک مسجد کے لئے پچاس ہزار روپے کی اپیل کی اور یہ قید لگادی کہ یہ صرف عورتوں کے چندہ سے ہی پوری کی جائے۔چنانچہ پندرہ روز کی قلیل مدت میں ان عورتوں نے پچاس ہزار کی بجائے پچپن ہزار روپیہ جمع ( بحوالہ تاثرات قادیان ۲۳۰-۲۳۱) کر دیا۔“ بلا شبہ اس تنظیم کا روشن ماضی اور درخشندہ حال ایک خوش آئند مستقبل کا پتہ دیتے ہیں۔اور ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب خلفائے سلسلہ کی روحانی قیادت کے تابع مستورات کی بیدانجمن دنیا بھر کی سب دوسری خواتین کی انجمنوں سے زیادہ وقیع اور وسیع اور طاقتور اور حقوق نسواں کی سب سے زیادہ اور سچی علمبر دار بن جانے کے ساتھ ساتھ خدمت دین کے لئے بھی نمایاں ہوتی چلی جائے گی۔یہ بات محض خوش فہمی نہیں بلکہ حقائق کا رخ اور جماعت احمدیہ کا کردار بتارہا ہے کہ لازماً ایک دن ایسا ہو کر رہے گا۔