جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 406 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 406

406 انجمن وقف جدید کا نظام دفتر وقف جدید کا قیام سید نا حضرت خلیفہ المسی الثانی الصلح الموعود نے تحر یک وقف جدید کے باضابطہ اعلان کے ساتھ ہی اس کے عملی کام کا آغاز فرما دیا اور ۹ جنوری ۱۹۵۸ء کو مکرم سید منیر احمد صاحب باہری سابق مجاہد برما کو انچارج وقف جدید مقرر کرتے ہوئے با قاعدہ دفتر کھولنے کی ہدایت فرمائی اور بطور کلرک فضل الرحمن صاحب نعیم (ابن مکرم ماسٹر عبدالرحمن صاحب اتالیق) کی منظوری دی۔چنانچہ اسی روز وقف جدید کا دفتر ، پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے احاطہ میں قائم ہو گیا اور انہوں نے حضور کی براہ راست نگرانی میں کام شروع کر دیا۔دفتری ریکارڈ کے مطابق وقف جدید کا پہلا ریزولیوشن ۱۳ / جنوری ۱۹۵۸ء کو ہوا۔رجسٹریشن اور ابتدائی ممبران حضور انور نے انجمن وقف جدید کے حسب ذیل ممبران مقرر فرمائے :۔ا۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب۔۲۔مولوی عبد الرحمن صاحب انور۔۳۔چوہدری محمد شریف صاحب فاضل سابق مجاہد بلاد عر بیہ۔۴۔مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب۔۵۔سید منیر احمد صاحب باہری (سیکرٹری مجلس و انچار ج دفتر ) - ۶ - حضرت شیخ محمداحمد مظہر صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ ضلع لائکپور (فیصل آباد ) صدرے۔خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ۲۱ جنوری ۱۹۵۸ء کو یہ انجمن باقاعدہ رجسٹر ہو گئی اور مندرجہ بالا اصحاب ہی اس کے ڈایکٹر مقرر ہوئے۔حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو ۲۱ ۱۷ کتوبر ۱۹۵۸ء کو ناظم دعوت الی اللہ و ناظم تعلیم اور ناظم ارشاد مقررفرمایا۔وقف جدید کے پہلے انسپکٹر وقف جدید کے سب سے پہلے انسپکٹر ارشاد ۵ فروری ۱۹۵۸ء کوز میر ریزولیوشن نمبر ۲۱ مکرم صوفی خدا بخش صاحب عبد ز یروی بی۔اے ہمنشی فاضل مقرر کئے گئے۔( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد نمبر ۲۰ ص ۲۰ تا ۲۲ طبع اول)