جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 394 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 394

394 کامیابیاں بغیر انتہائی خلوص و صداقت کے آسانی سے حاصل ہو سکتی تھیں۔کیا یہ جذ بہ خلوص وصداقت کسی جماعت میں پیدا ہو سکتا ہے۔اگر اسے اپنے ہادی و مرشد کی صداقت پر یقین نہ ہو اور کیا وہ ہادی و مرشداتنی مخلص جماعت پیدا کرسکتا تھا۔اگر وہ خود اپنی جگہ صادق ومخلص نہ ہوتا۔بہر حال اس سے انکار ممکن نہیں کہ مرزا صاحب بڑے مخلص انسان تھے اور یہ محض ان کے خلوص کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی بے عمل جماعت میں عملی زندگی کا احساس پیدا ہوا، اور ایک مستقل حقیقت بن گیا۔۔دمید دانه و بالید و آشیانه نگه شده (ماہنامہ نگار لکھنو ۱۹۵۹ء) جناب مولانا ظفر علی خاں ظفر اخبار "زمیندار لاہور ہم مسلمانوں سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں اپنے دین مقدس کو پھیلانے کے لئے کیا جدو جہد کر رہے ہیں۔ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان آباد ہیں۔کیا ان کی طرف سے ایک بھی تبلیغی مشن مغربی ممالک میں کام کر رہا ہے؟ گھر بیٹھ کر احمدیوں کو برا بھلا کہہ لینا نہایت آسان ہے لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہی ایک جماعت ہے جس نے اپنے مبلغین انگلستان میں اور دیگر یورپین ممالک میں بھیج رکھے ہیں۔کیا ندوۃ العلماء، دیو بند، فرنگی محل اور دوسرے عملی اور دینی مرکزوں سے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ بھی تبلیغ و اشاعت حق کی سعادت میں حصہ لیں۔“ جناب ایڈیٹر صاحب ہندوستان ٹائمنر کلکتہ رقمطراز ہیں اخبار زمیندار لا ہور دسمبر ۱۹۲۶ء) احمد یہ جماعت بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی شاخیں یورپ اور ایشیا کے مختلف ممالک افریقہ اور شمالی اور جنوبی امریکہ کے متفرق حصوں اور آسٹریلیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ہر جگہ اس کے ماننے والے اپنی مخصوص تعلیم اور تبلیغی سرگرمی کے لئے ممتاز اور نمایاں ہیں۔“ روز نامہ نوائے وقت لاہور :۔(ہندوستان ٹائمنر کلکتہ ۱۹۵۱ء) افریقہ میں اگر کوئی پاکستانی جماعت بطور مشنری کا کام کر رہی ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہے۔“ (۲ / اپریل ۱۹۶۰ء)