جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 384
384 لیا جاتا۔۱۷۔وکالت مال ثانی تحریک جدید دفتر اول کے مجاہدین کے ورثاء کو مسلسل اس امر کی یاد دہانی کرواتی رہتی ہے کہ وہ اپنے فوت شدہ عزیزوں کی طرف سے چندہ تحریک جدید ادا کریں۔۱۸۔وقف جدید کی بنیاد ۱۹۵۷ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے رکھی۔اس تحریک کا مقصد دنیا کے مختلف ممالک کے دیہاتی علاقوں میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کرنا ہے۔تمام دنیا میں افراد جماعت اس تحریک میں حصہ لیتے ہیں۔اس قربانی کو چندہ وقف جدید کہا جاتا ہے۔وکالت مال ثانی پاکستان سے باہر کی تمام جماعتوں سے چندہ وقف جدید جمع کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔وقف جدید کے مالی سال کا آغاز یکم جنوری سے ہوتا ہے۔اس تحریک میں حصہ لینے کیلئے چندہ کی کوئی معین شرح نہیں ہوتی۔نوٹ: نمبر ۱۶ کے تحت دیا گیا نوٹ چندہ وقف جدید پر بھی لاگو ہوتا ہے۔۱۹۔وکالت مال ثانی تمام دنیا کی جماعتوں کو مالی قربانی اور تحریک سے متعلق حضرت خلیفہ المسیح کے ارشادات پہنچانے کا انتظام کرتی ہے۔۲۰۔بیرون پاکستان وکیل المال ثانی مرکزی محاسب ( اکاؤنٹنٹ جنرل ) کے طور پر کردار ادا کرتا ہے۔اور آمد اور خرچ کے ریکار ڈ اور مالی معاملات سے متعلقہ امور کی نگرانی کرتا ہے اور اس سلسلہ میں حضرت خلیفتہ اسیح کو معمولات فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔۲۱۔اس وکالت میں نظام وصیت کے لئے ایک الگ شعبہ قائم ہے۔یہ شعبہ بیرون پاکستان افراد جماعت کو نظام وصیت سے متعارف کرواتا ہے اور نئے افراد جماعت کو اس نظام میں شمولت کی تحریک کرتا ہے۔اس شعبہ کا انچارج ایک نائب وکیل المال ہوتا ہے جو بیرون پاکستان تمام موصیان سے ان کی وصایا کے متعلق اس وکالت کی نمائندگی میں خط و کتابت کرتا ہے۔اس وکالت کے فرائض میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ وہ تمام جماعتوں میں وصیت کے قواعد کی روشنی میں مجلس موصیان قائم کرے۔اور اس بات کا اہتمام کرے کہ ہر موصی وصیت کے قواعد وضوابط سے آشنا ہو۔اور اپنی مقامی جماعت اور اس وکالت سے منسلک اور رابطہ رکھے۔۲۲۔یہ وکالت دیگر تمام وہ ذمہ داریاں بھی سرانجام دیتی ہے جو اس وکالت کے مفاد میں خلیفہ امسیح کی طرف سے اس کے سپرد کی جاتی ہے۔۲۳۔حضرت خلیفہ ایسیح نے لنڈن میں بھی ایک ایڈیشنل وکیل المال ثانی مقرر کیا ہوا ہے جو ان تمام فرائض کو سرانجام دیتا ہے جو اسے حضرت خلیفہ امسیح کی طرف سے تفویض کئے جاتے ہیں۔