جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 365
365 ۲۴۔احمد یہ دارالقضاء کا قیام وو سوائے ان مقدمات کے کہ جن کے متعلق قانون کہتا ہے کہ ان کو عدالتوں میں لے جانا ضروری ہے باقی سب مقدمات کا فیصلہ شریعت کے مطابق کیا جائے اور اس ضرورت کے لئے جماعت میں پنچائتیں اور بورڈ بن جائیں“۔۲۵۔وقف اولاد وو اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی نسل بڑھے اور پھیلے اور اسے اور اس کی نسلوں کو عزت ملے تو اس کا طریق یہ ہے کہ اپنی اولاد کو دین کی راہ میں قربان کر دے۔یہ ایک ایسا گر ہے کہ ہمارے دوستوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہے۔اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی نسلیں دنیا پر چھا جائیں اور ہزاروں سال تک ان کا نام عزت کے ساتھ زندہ رہے تو وہ اسوہ ابراہیمی پر عمل پیرا ہوں۔“ وو ( خطبہ عید الاضحیه فرموده ۹ / جنوری ۱۹۴۱ء الفضل ۷ ار جنوری ۱۹۴۱ء) ۲۶۔وقف جائیداد و آمد۔۔۔۔۔جب اللہ تعالیٰ نے اب اسلام کی فتح کی ایک بنیادرکھ دی ہے تو یقیناً اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالی اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے ہم سے نئی قربانیوں کا مطالبہ کرنے والا ہے۔ساری جماعت بیشک چندے دیتی ہے اور بہت دیتی ہے، قربانیاں کرتی ہے اور بہت کرتی ہے۔مگر یہ قربانیاں اسلام کی اشاعت کے لئے کافی نہیں۔پس میں تجویز کرتا ہوں اور اس تجویز کے مطابق سب سے پہلے میں اپنے وجود کو پیش کرتا ہوں کہ ہم میں سے کچھ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے اپنی جائیدادوں کو اس صورت میں دین کے لئے وقف کر دیں کہ جب سلسلہ کی طرف سے ان سے مطالبہ کیا جائے گا انہیں وہ جائیداد اسلام کی اشاعت کے لئے پیش کرنے میں قطعا کوئی عذر نہیں ہوگا۔“ ۲۷۔حلف الفضول ( خطبه جمعه فرموده ۱۰/ مارچ ۱۹۴۴ء مطبوعه الفضل ۱۴ / مارچ ۱۹۴۴ء ) : در حقیقت یہ اس زمانہ کی اہم نیکی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں بالخصوص امیر لوگ غریبوں کو لوٹتے ہیں اور اس لوٹنے میں راحت محسوس کرتے ہیں۔شاید اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے۔یہ عہد کریں کہ ہم کسی کا حق نہیں ماریں گے اور جہاں پتہ لگے گا کہ کوئی کسی کا حق مار رہا ہے ہم وہاں جا پہنچیں گے اور خواہ کوئی ہم سے پوچھے یا نہ پوچھے ہم ضرور اس میں دخل