جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 364
364 رکھا ہے اور وہ دعا کا خانہ ہے۔وہ لوگ جو ان مطالبات میں شریک نہ ہوسکیں اور ان کے مطابق کام نہ کرسکیں وہ خاص طور پر دعا کریں کہ جو لوگ کام کر سکتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں کام کرنے کی توفیق دے اور ان کے کاموں میں برکت ڈالے۔۔۔۔پس وہ لوگ جو مجبوری اور معذوری کی وجہ سے کسی مطالبہ کو پورا کرنے میں حصہ نہیں لے سکتے، میں نے ایسی تجویز بتائی ہے کہ اس میں وہ سب شریک ہو سکتے ہیں اور یہ سب سے اعلیٰ اور ضروری تجویز ہے۔“ 20۔اسلامی تمدن کا قیام وو ( خطبه جمعه فرموده ۳۰ نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعه الفضل ۹ دسمبر ۱۹۳۴ء) ہر جگہ تمام دوستوں کو اکٹھا کر کے ان سے پھر عہد لیا جائے کہ وہ اسلامی تمدن اور اس کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں گے اور احیائے دین اور قیام شریعت کر کے اپنی بنیادوں کو مضبوط کریں گے تا قلیل سے قلیل عرصہ میں وہ تمدن قائم ہو جائے جس کو دین حق قائم کرنا چاہتا ہے اور جس کو قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔“ 21 قومی دیانت کا قیام وو ( خطبه جمعه فرموده ۱۴ جنوری ۱۹۳۸ء الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۳۸ء صفحه ۷ ) اخلاقی لحاظ سے اصولی صداقتیں چار ہیں دیانت ،صداقت ہمحنت اور قربانی۔اور اگر یہ چار تم اپنے اندر پیدا کر لو یقیناً تم کامیاب ہو سکتے ہو۔“ ( خطبه جمعه فرموده ۱۴ جنوری ۱۹۳۸ء الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۳۸ صفحه ۸) 22۔عورتوں کے حقوق کی حفاظت وو عورتوں کے حقوق برابر دیئے جائیں اور ان کا خاص خیال رکھا جائے خصوصا جب کہ ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان کے احساسات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔لہذا یا تو دوسری شادی نہ کی جائے اور اگر کی جائے تو پورا انصاف کرے۔“ 66 23۔راستوں کی صفائی وو اپنے ہاتھوں سے کام کر کے تمام راستوں کو فراخ اور سیدھا کیا جائے اور اونچی نیچی جگہوں کو ہموار کیا جاوے اور گندگی کو دور کیا جاوے تاکہ دیکھنے والا دیکھتے ہی سمجھ لے کہ احمدی جماعت کا محلہ یا گاؤں ہے۔