جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 363
363 66 چھوڑ دیں اور نکل جائیں۔( خطبہ جمعہ فرموده ۳۰ / نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعه الفضل ۹/ دسمبر ۱۹۳۴ء)۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں وو۔۔۔احباب جماعت کو چاہئے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔سادہ کھائیں، سادہ کپڑا پہنیں، دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں، کوئی احمدی بیکار نہ رہے۔اگر کسی کو جھاڑو دینے کا کام ملے تو وہ بھی کر لے اس میں بھی فائدہ ہے۔بہر حال کوئی نہ کوئی کام کرنا چاہیئے۔ہر شخص کوشش کرے کہ وہ بریکار نہ رہے۔“ ۱۷ بے کار نہ رہیں جو کام بھی ملے وہی کریں خطبه جمعه فرموده ۲۹ نومبر ۱۹۳۵ء) میں نے بارہا کہا ہے کہ بے کا رمت رہو اور کام کرو۔۔۔میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ تحریک جدید تمہیں اس وقت تک کامیاب نہیں کر سکتی جب تک رات دن ایک کر کے کام نہ کرو۔۔۔۔میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ محنت کی عادت ڈالو، بے کاری کی عادت کو ترک کردو، فضول مجلسیں بنا کر گہیں ہانکنا اور بکواس کرنا چھوڑ دو۔حقہ اور دیگر ایسی لغو عادتوں میں وقت ضائع نہ کرو اور کوشش کرو کہ زیادہ سے زیادہ کام کر سکو ( خطبه جمعه فرموده ۲۲ جنوری ۱۹۳۷ء مطبوعه الفضل ۳ فروری ۱۹۳۷ء) ۱۸۔مرکز میں مکان بنا ئیں وو باہر کے دوست قادیان میں مکان بنانے کی کوشش کریں۔جوں جوں قادیان میں احمدیوں کی آبادی بڑھے گی ، ہمارا مرکز ترقی کرے گا اور غیر عنصر خود بخود کم ہوتا جائے گا۔ہر مکان جو قادیان میں بنتا ہے وہ احمدیت کو زیادہ مضبوط کر دیتا ہے۔تم قادیان میں مکان بنا کر صرف اپنی جائیداد نہیں بناتے بلکہ اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی جائیداد بھی بڑھاتے ہو۔ہر اینٹ جو تمہارے مکان میں لگائی جاتی ہے، وہ صرف تمہارے مکان کو ہی مضبوط نہیں کرتی بلکہ سلسلہ اور اسلام کو بھی مضبوط کرتی ہے۔“ ۱۹۔دعا وو ( خطبه جمعه فرموده ۱۰ جنوری ۱۹۳۶ء) ایک اور چیز باقی رہ گئی ہے جو سب کے متعلق ہے گوغر باء اس میں زیادہ حصہ لے سکتے ہیں د نیوی سامان خواه کسی قدر کئے جائیں آخر دنیاوی سامان ہیں اور ہماری ترقی کا انحصار ان پر نہیں بلکہ ہماری ترقی خدائی سامان کے ذریعہ ہوگی اور یہ خانہ اگر چہ سب سے اہم ہے مگر اسے میں نے آخر میں