جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 1
1 احمدیت کسی سیاسی یا کسی دنیوی تحریک کا نام نہیں بلکہ یہ خالصتاً ایک دینی جماعت ہے جو منہاج نبوت پر قائم ہوئی ہے اور اس کے پیش نظر صرف اور صرف بنی نوع انسان کی روحانی تعلیم و تربیت ہے۔اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا جس کے تحت بعض روایات کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث ہوئے۔بالآ خر یہ سلسلہ ہمارے پیارے نبی حضرت خاتم الانبیاءمحمد مصطفے ﷺ کے بابرکت وجود پر اپنے کمال کو پہنچا۔آپ سے پہلے تمام انبیاء کا دائرہ کار زمانی و مکانی اور قومی لحاظ سے محدود تھا۔مگر آنحضرت عیﷺ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ آپ تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے اور جو شریعت قرآن کریم کی شکل میں آپ کو عطا کی گئی اس میں قیامت تک کے پیدا ہونے والے تمام مسائل کاحل موجود ہے۔اب یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے خاتم النبین ہونے اور قرآن کریم کے قیامت تک قابل عمل رہنے کے باوجود کسی مسیح یا مہدی کے ظہور کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ اس سوال کا جواب درج ذیل احادیث کی روشنی میں بآسانی سمجھا جا سکتا ہے:۔عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَّاتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْأَسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسُمُهُ مَسَاجِدُ هُمُ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الهُدى عُلَمَاءُ هُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيهِمْ تَعُودُ رَوَاهُ البيهقي في شعب الايمان۔(مشكوة كتاب العلم الفصل الثالث ص ۳۸ کنز العمال ص۴۳/۶) حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانہ کی مسجد میں بظاہر آباد تو نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔یعنی تمام خرابیوں کا وہی سر چشمہ ہوں گے۔عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ