جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 356
356 ایک روحانی فوج دی گئی۔چنانچہ حضور علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔وو کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں۔ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے۔تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھا مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔تب میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیا۔جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اسے میں نے مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔وہ میری اس بات کو سن کر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر چہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔اس وقت میں نے یہ آیت پڑھ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ عَلَيْتَ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللهِ پھر وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے مگر خدائے تعالیٰ کی کسی حکمت خفیہ نے میری نظر کو اس کے پہچاننے سے قاصر رکھا۔لیکن امید رکھتا ہوں کہ کسی دوسرے وقت دکھایا جائے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۴۹ حاشیه) اس کشف کے علاوہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور جماعت احمدیہ کے افراد کو بھی تحریک جدید کے بابرکت ہونے کی نسبت بشارتیں ملیں۔بیسیوں رویا و کشوف اور الہامات اس تحریک کے بابرکت ہونے کے متعلق لوگوں کو ہوئے۔بعض کو رویا میں رسول کریم ﷺ نے بتایا کہ یہ تحریک بہت مبارک ہے اور بعض کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ یہ تحریک بابرکت ہے اور بعض کو الہامات ہوئے کہ یہ تحریک بہت مبارک ہے۔غرض یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کے بابرکت ہونے کے متعلق بیسیوں رویا و کشوف اور الہامات کی شہادت موجود ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ احرار کو تو خدا تعالیٰ نے ایک بہانہ بنا دیا کیونکہ ہر تحریک کے جاری کرنے کے لئے ایک موقعہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب تک وہ موقعہ میسر نہ ہو جاری کردہ تحریک مفید نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔ورنہ اس تحریک کو خدا تعالیٰ نے جاری کرنا ہی تھا۔تحریک جدید براہ راست خدا تعالی کی نازل کردہ تحریک تھی جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے قلب مبارک پر ایسے رنگ میں یکا یک القاء ہوئی کہ دنیا کی روحانی فتح کی سب منزلیں اپنی بہت سی تفصیلات و مشکلات کے ساتھ حضور کے سامنے آ گئیں اور مستقبل میں لڑی جانے والی دین حق اور کفر کی جنگ کا ایک جامع نقشہ آپ کے دماغ میں محفوظ کر دیا گیا۔اس کا تذکرہ خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے متعدد بار فرمایا۔بطور مثال چند فرمودات درج ذیل ہیں۔