جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 326
326 جس کا نام دار الصناعة تجویز کیا۔یہ ادارہ ایک وسیع و عریض دو منزلہ عمارت میں قائم کیا گیا جو حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب مربی مغربی افریقہ کی ملکیت تھا اور محلہ دار الفضل میں واقع احمد یہ فروٹ فارم کے قریب تھا احمد یہ فروٹ فارم کا انتظام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے سپرد تھا۔اس فارم میں قسم ہا قسم کے قلمی آموں کے درخت تھے۔جن کا پھل ہر سال نیلام ہو کر بڑے بڑے شہروں کو جاتا تھا۔میرے نانا حضرت مولوی محمد عبد اللہ بوتالوی جو حضرت مسیح موعود کے رفیق تھے جب محکمہ نہر کی ملازمت سے ریٹائر ہوکر قادیان آگئے تو حضور نے ان کو دار الصناعت کے ہوٹل کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا۔دار الصناعۃ میں جو کام سکھائے جاتے تھے وہ تین طرح کے تھے۔ایک شعبہ میں بوٹ سازی کا کام سکھایا جاتا تھا۔جس کے لئے ایک ماہر کاریگر کو آگرہ یا کانپور سے ٹرینگ دینے کی غرض سے بلا یا گیا تھا۔جن کا نام خوشحالی رام تھا۔بہت بامذاق آدمی تھے۔طرز اور رہن سہن پور بیوں والا تھا۔قدرے نیچے کو جھکی ہوئی بڑی بڑی مونچھیں۔جسم دبلا پتلا ناریل کا حقہ یا چلم پیتے تھے۔چونکہ یہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اس لئے اکثر مجھے سے اپنے بیٹے گھاسی رام کو خط لکھوایا کرتے تھے۔یہ نام عجیب ہونے کی بنا پر یادر ہا۔دوسرے شعبہ میں لکڑی کا کام سکھانے کا انتظام تھا۔اس شعبہ کے انچارج میاں نذیر احمد صاحب تھے جو لکڑی کے بہت اچھے کاریگر تھے۔جب ۱۹۵۴ء میں ربوہ میں تعلیم الاسلام کالج کی عمارت تعمیر ہوئی تو لیبارٹریوں کی میزیں، فرنیچر اور لکڑی کا دوسرا کام انہیں کی زیر نگرانی کیا گیا۔میاں نذیرمحمد صاحب بریمپٹن کے سابق پریذیڈنٹ منور احمد میاں صاحب کے والد محترم تھے۔دار الصناعۃ کے لکڑی کے شعبہ میں بڑھیوں کے عمومی کام کے علاوہ فرنیچر کی تیاری کا کام بھی سکھا یا جا تا تھا اور وہاں نہایت اعلیٰ درجہ کا فرنیچر تیار ہوتا تھا۔جس کی تیاری میں دیار ہشیشم اور ساگوان کی لکڑی استعمال کی جاتی تھی۔تیسرے شعبہ میں لوہے کا کام سکھایا جاتا تھا اور اس کے دو حصے تھے۔ایک میں عام لوہار کا کام اور دوسرے میں چاقو بنانے سکھائے جاتے تھے۔چاقوؤں والے حصہ کے انچارج صوفی محمد رفیق صاحب تھے جو فیروز پور کے چاقوؤں کے مشہور کارخانہ مستری چراغ دین اینڈ سنز میں بھی کام کرتے رہے تھے۔آپ محمد سعید احمد صاحب انجینئر لاہور کے والد محترم اور تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے اردو کے پروفیسر اور شاعر مبارک احمد عابد صاحب کے چچا تھے۔اسی دار الصناعۃ کے ذکر میں ایک واقعہ کا بیان دلچسپی سے خالی نہ ہوگا اور وہ واقعہ یوں ہے کہ ایک روز جب میں دار الصناعۃ میں گیا تو وہاں میں نے سرخ و سفید ایک خوش شکل لڑکے کو دیکھا جو مجھ سے تین چار سال بڑا معلوم ہوتا تھا۔اس نے بہت عمدہ قسم کا لباس پہن رکھا تھا جو اس پر بہت بیچ رہا تھا۔اس کے ہاتھ کی انگلی سے