جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 319
319 ہسپتالوں کے کارکن جس جذ بہ ہمدردی کے تحت اپنی زندگیاں وقف کر کے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے مریضوں کے لئے درد دل سے دعائیں کرنے والے ہوتے ہیں اور دوا کی نسبت دعا پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔یہی وہ راز ہے جس کے باعث احمد یہ ہسپتال اور احمدی ڈاکٹروں کے ہاتھ میں خدا نے شفار کھی ہے۔پوری دنیا میں بنیادی طور پر ہسپتال بیماروں کے علاج کے لئے ہی بنائے جاتے ہیں مگر اکثر ہسپتال اس بنیادی مقصد کے علاوہ پیسہ کمانے کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔امریکہ میں کئی ہسپتال نان پرافٹ آرگنائزیشن (یعنی بغیر منافع کمائے ) چلاتی ہیں مگر وہاں بھی ہسپتال چلانے کا اکثر بوجھ مریضوں کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح ہمارے ملک میں اور دوسرے ترقی پذیر ممالک میں اکثر سرکاری ہسپتال ہوتے ہیں جن کا خرچ سرکار برداشت کرتی ہے۔مگر اس کے برعکس فضل عمر ہسپتال کو چلانے کے لئے ایک کثیر رقم صدر انجمن احمد یہ خرچ کرتی ہے۔اور مخیر احمدی حضرات بھی اس کی اعانت کے لئے دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سالوں فضل عمر ہسپتال پر تقریباً کئی کروڑ روپے خرچ ہوئے جو مریض علاج کا خرچ بالکل برداشت نہیں کر سکتے ان کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے۔اور جن لوگوں میں جتنی استطاعت ہوتی ہے وہ اس کے مطابق بخوشی ادا ئیگی کر سکتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں جتنے بھی ہسپتال کا میابی سے چل رہے ہیں ان ہسپتالوں کی کارکردگی کا ڈھانچہ دو بڑے شعبوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ا۔انتظامیہ۔۲۔طبی شعبہ جات انتظامیہ: فضل عمر ہسپتال کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے انتظامی شعبہ جات کی مؤثر نگرانی کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے ۱۹۸۷ء میں ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ منظور فرمایا۔انتظامیہ کے سپر دفضل عمر ہسپتال سے متعلق ہدایات اور پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا روز مرہ کی ضروریات پورا کرنا اور ہسپتال کے آمد وخرچ کا حساب رکھنا شامل ہے۔کسی بھی ہسپتال کو احسن طریق پر چلانے کے لئے اس کا مالیاتی نظم ونسق کامیابی کی کنجی ہوتا ہے۔اس سلسلہ میں ہسپتال کی موجودہ انتظامیہ نے اس شعبہ میں کئی اصلاحات کر کے ایک مالیاتی حکمت عملی کا عمدہ نظام وضع کیا جس میں بجٹ کا طریق کار۔بجٹ کی منصوبہ بندی، وصولی کا طریق کار اور دیگر نظام حسابات کو قائم کرنا۔اس سارے نظام کو قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ علاج معالجے کے اعلیٰ معیار کے ساتھ اس پر اٹھنے والے اخراجات کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کرے۔